’طالبان پارلیمان پر اثرو رسوخ رکھتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے طالبان کی طرف سے مقررکردہ کمیٹی سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان پارلیمان تک پر اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔
رضا ربانی نے حکومت کی نجکاری کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے نجکاری کے شوق میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کو بھی ٹھیکے پر دے دیا ہے۔
رضا ربانی نے پارلیمان کے ایوانِ بالا یعنی سینٹ کے اجلاس سے ملک میں امن وامان اور سیاسی صورت حال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اُنھوں نے قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک سیاسی جماعت کی وجہ سے طالبان کالعدم ہونے کے باوجود پارلیمنٹ پر اثرورسوخ رکھتے ہیں۔
اُنھوں نے یہ کہا کہ طالبان کا سیاسی چہرہ بھی سامنے آگیا ہے اور کیسے وہ اپنی بات پارلیمنٹ میں لا رہے ہیں۔
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے سات ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے اور اس عرصے کے دوران اُنھوں نے کالعدم تحریک طابان پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت کے اس اقدم سے طالبان منظم ہوئے ہیں جو کہ تشویش ناک امر ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کے وزیر اطلاعات کے بیان کو جس میں طالبان کو پشاور میں اپنا دفتر کھولنے کی اجازت دی گئی تھی، کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ موقف ریاست کو کمزور کرنے کے مترداف ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو پھر ملک کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
سینیٹر رضا ربانی نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے چار شرائط رکھ دی ہیں جن میں کہا گیا ہے جن شرائط پر مذاکرات ہو رہے ہیں اُن کو عام کیا جائے اس کے علاوہ مذاکرات کے لیے ڈیڈ لائن دی جائے اور اس ضمن میں پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بھی طلب کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اگر یہ مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو ایوان میں موجود پارلیمانی جماعتوں کو روزانہ کی بنیاد پر بریف کیا جائے۔
اُنھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے نیٹو سپلائی دھرنے دے کر روک رکھی ہے اور وفاقی حکومت نے اسے بحال کراونے کے لیے کوئی اقدام نہیں اُٹھائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اُس وقت تک امن وامان کی صورت حال بہتر نہیں ہو سکتی جب تک وہاں پر مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ ختم نہیں ہو جاتا اور لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کا واقعات ختم نہیں ہوتے۔
رضا ربانی نے تحفظ پاکستان آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں آرڈیننس لانے کی حکومت کو کیا جلدی تھی جس پر سیاسی جماعتوں کو تحفظات ہیں۔سینیٹ کا اجلاس اب چھ فروری کو ہوگا۔







