پنجاب ایک برس میں پولیو سے پاک: سرکاری دعوی

،تصویر کا ذریعہAFP
پنجاب ایک ایسا صوبہ جہاں آبادی سب سے زیادہ ہونے کے باوجود پولیو ویکسین پلانے والے سرکاری ٹیموں پر سب سے کم حملے کیے گئے ہیں۔ پنجاب کے حکام کا دعوی ہے کہ ایک برس کے بعد وہ پنجاب کو پولیو فری صوبہ بنا دیں گے۔
لاہور سےنامہ نگار علی سلمان کےمطابق ملتان میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ایک تنظیم کی سربراہ نے پولیو مہم کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن یہ بائیکاٹ کراچی میں پرتشدد واقعہ کے بعد کیا گیا ہے۔
پنجاب میں ایک سال کےدوران پولیو ویکسین کی سترہ مہمیں چلائی گئی ہیں اوراس کے باوجود ویکسین پلانے والی ٹیمیوں پر حملے نہ ہونے کے برابر رہے۔
پولیو مہم کی اس بظاہر کامیابی کے نتیجے میں صوبائی حکومت کے بعض اہلکاروں نے اعلان کیا ہے کہ ایک برس کے اندر پنجاب کو پولیو فری صوبہ قرار دیا جاسکے گا۔
پنجاب کے مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ پنجاب میں پولیو ویکسین پلانے والے اہلکاروں پر نسبتا کم حملے کیے جاتے ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ اس کی وجہ بہتر انتظامی صلاحیت ہے اور محنت ہے۔ انھوں نے کہا کہ البتہ یہ سچ ہے کہ پرتشدد واقعات سے بچنے کے لیے جتنے وسائل پولیو ورکر کی حفاظت پر لگائے جا رہے ہیں وہ وقت اور وسائل دوسرے کام آسکتے ہیں۔
پنجاب کے مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے دو سال سے جنگی بنیادوں پر کام کررہی ہے اور پنجاب میں اب پولیو کے صرف وہ کیسز سامنے آرہے ہیں جن کے وائرس کا مآخذ خیبر پختونخواہ ہے۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ محکمہ صحت پنجاب نے صوبے کے سرحد پر بیالیس چوکیاں بنا دی ہیں جو خیبر پختونخواہ سے آنے والے ہر بچے کو پولیو ویکسین پلاتی ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کے مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہناہے کہ صوبہ سرحد میں پانچ چھ لاکھ بچے ایسے ہیں جنہیں شدت پسندوں کی وجہ سے پولیو ویکسین نہیں دی جاسکتی۔
انھوں نے کہا کہ جب تک خیبر پختونخواہ سے پولیو وائرس کے خاتم نہیں ہوتا اس وقت تک باقی پاکستان میں بھی اس پر قابو پانا مشکل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







