اہل سنت و الجماعت کے رہنما کی ہلاکت کے خلاف احتجاج

تنظیم اہل سنت والجماعت نے کارکنوں نے اپنے صوبائی صدر شمس الرحمان معاویہ کی ہلاکت کے خلاف راولپنڈی اور لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا ہے اور دھرنے دیے ہیں۔
شمس الرحمان معاویہ کو جمعے کو نامعلوم مسلح افراد نے رنگ روڑ پر بتی چوک کے قریب اس وقت نشانہ بنایا تھا جب وہ اپنی گاڑی پر جا رہے تھے۔
پولیس نے ان کے قتل کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کی واردادت قرار دیا ہے۔
سنیچر کو تنظیم اہل سنت والجماعت نے کارکنوں نے لاہور کی مال روڈ پر ان کی میت رکھ کر کئی گھنٹے احتجاج کیا۔
اس احتجاج کی وجہ سے علاقے میں ٹریفک معطل ہوگئی اور پولیس نے مال روڈ اور اسے ملحقہ علاقوں کے بازار بھی بند کروا دیے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مظاہرین اس واقعے کی تحقیقات کے لیے اپنے نامزد کردہ افراد کی ٹیم کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے تھے۔

نامہ نگار علی سلمان کا کہنا ہے کہ جب شمس الرحمان معاویہ کا جنازہ مال روڈ پر واقع مسجدِ شہدا لایا گیا تو تنظیم کے کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کو دھکے دیکر مسجد سے دور کر دیا۔
اس موقع پر وہاں موجود کارکنوں اور رہنماؤں نے متوفی کی نماز جنازہ پڑھنے سے بھی انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ قتل کی تحقیقات کے لیے ان کے نامزد کردہ افراد کی ٹیم بنائی جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب یا وزیر قانون خود آ کر اس بات کی یقین دہانی کرائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق حکومت پنجاب نے مظاہرین کے وفد کو ایوان وزیراعلیٰ میں مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
اس موقع پر تنظیم کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا اورنگزیب فاروقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔انہوں نے کہا کہ راولپنڈی ہلاکتوں کے ملزم گرفتار ہوجاتے تو کراچی اور لاہور کی ہلاکتیں نہ ہوتیں۔
خیال رہے کہ روالپنڈی میں یومِ عاشور پر جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تصادم میں 11 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
پاکستان میں گزشتہ چند عرصے سے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔
حالیہ ہفتے ہی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں اہل سنت و الجماعت کے کارکن مفتی احمد اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنما دیدار جلبانی کو ہلاک کیا گیا ہے۔







