سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی ٹیکس مراعات

پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے ٹیکس کی ادائیگی اور سرمایہ کاری کے نظام میں بہتری کے لیے کاروباری برداری کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد میں جمعرات کو تجارتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے اعلان کیا کہ ماحول دوست منصوبوں اور موجودہ پراجیکٹس کی توسیع کے لیے سرمایہ کاری کی رقم کے ذرائع کے بارے میں تاجروں سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔
وزیراعظم کے پلان کے مطابق کم قیمت کے ہاؤسنگ پراجکٹس، صوبہ سندھ میں تھر کوئلے سے متعلق اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں کان کنی کے منصوبوں میں بھی خصوصی مراعات دی جائیں گی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق اس کے علاوہ مختلف کیٹگریز میں چار سو افراد کو ’پریولیجڈ ٹیکس پرئر کارڈز‘ بھی جاری کیے جائیں گے اور ہر قسم کی درجہ بندی میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے دس افراد کو انعامات بھی دیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ اس سال انتخابات میں کامیابی کے بعد بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے میاں نواز شریف نے ملک کے لیے اپنی ترجیحات کو یوں بیان کیا تھا ’معیشت، معیشت، معیشت۔‘
اس سال جولائی میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کو پانچ ارب تیس کروڑ ڈالر کا قرض دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کے بدلے پاکستان کو اپنے ٹیکس نظام میں اصلاحات اور سبسڈی کے خاتمے سمیت بعض مشکل فیصلے کرنا تھے۔
آئی ایم ایف نے بتایا تھا کہ نئے قرض کی یہ رقم آئندہ تین سال میں پاکستان کو ادا کر دی جائے گی۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یہ رقم پاکستان کے ذمہ آئی ایم ایف ہی کا قرض واپس کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نئے قرضے کی پالیسی پر تنقید کے جواب میں وزیرخزانہ نے اصرار کیا تھا کہ آئی ایف کے ساتھ جو بھی معاہدہ ہوا ہے وہ مسلم لیگ ن کی حکومت کی معاشی پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے اور آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کے معاشی ایجنڈے سے ہٹ کر نہ کوئی شرائط پیش کی گئیں اور نہ حکومت نے قبول کیں۔
تاہم نامہ نگار آصف قاروقی کے مطابق اس معاہدے کے بعد ملکی کرنسی میں تیزی سےگراوٹ دیکھنے میں آئی اور حکومت نے بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا۔
وزارت خزانہ کے سابق مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے قرضے کے اس معاہدے کے بارے میں کہا تھا کہ معاشی بحران کے شکار یونان کو بھی چار برس قبل آئی ایم ایف نے اسی قسم کے ایک معاہدے کے ذریعے بحرانی کیفیت سے نکلنے میں مدد دی تھی۔
’وہاں بھی سبسڈیز یا رعایتی قیمتیں اچانک ختم کر دی گئی تھیں اور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کی وجہ سے یونان دیوالیہ ہونے اور اس کے نتیجے میں ممکنہ سنگین مالیاتی بحران سے تو بچ نکلا لیکن اس کے عوام کی معاشی مشکلات اب بھی جاری ہیں۔‘







