’دو ماہ میں 500 ارب کےگردشی قرضے ختم کریں گے ‘

سرمایہ کاری کے اعداد و شمار بھی شرمناک ہیں:وزیر خزانہ اسحاق ڈار
،تصویر کا کیپشنسرمایہ کاری کے اعداد و شمار بھی شرمناک ہیں:وزیر خزانہ اسحاق ڈار

پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ حکومت جلد ہی بجلی کی پیداوار سے متعلق پانچ سو ارب روپے کے گردشی قرضے ادا کر دے گی۔

منگل کی شام اسلام آباد میں قومی اقتصادی جائزے کے اجراء کے موقع پر وزیر خزانہ نے گردشی قرضوں کو اپنے لیے تجرباتی کیس کے طور پر پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ دو سے اڑھائی ماہ میں پانچ سو ارب روپے کے یہ قرضے ختم کر دیے جائیں گے۔

یہ گردشی قرضہ وہ رقم ہے جو حکومت نے تیل بیچنے اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ادا کرنی ہے اور ملک میں توانائی کے بحران کی بڑی وجہ انہی زیرگردشی قرضوں کو قرار دیا جاتا ہے۔

وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنی حکومت کی معاشی پالیسی کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے قوم سے وعدہ کیا کہ مالیاتی بدنظمی اور سرکاری سطح پر بدعنوانی ختم کر کے ملکی معیشت کو درست سمت دی جائے گی۔

اسحاق ڈار نے ان اطلاعات کی تصدیق کی کہ حکومت عالمی مالیاتی ادارے یا آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

’آئندہ چند مہینوں میں پاکستان نے آئی ایم کو خاصی بھاری رقوم ان اقساط کی صورت میں واپس کرنی ہے جو قرضے پچھلی حکومت نے لیے تھے۔ اگر پرانے قرضے چکانے کے لیے نئے قرضے لے لیے جائیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔‘

اسحاق ڈار نے بتایا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان کے کل قرضوں کا حجم چودہ کھرب روپے تک پہنچ جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ کا خسارہ چار اعشاریہ سات فیصد سے زیادہ ہوگا۔

اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں پچھلے سال معاشی نمو کی شرح تین اعشاریہ چھ فیصد رہی جبکہ اس کا ہدف چار اعشاریہ چار فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح اندازوں سے کم رہی جس کی بنیادی وجہ لوگوں کی قوت خرید میں کمی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق صنعت کے علاوہ معیشت کے تمام شعبوں نے بری کارکردگی دکھائی۔ صرف بڑی صنعتوں کے شعبے میں مثبت ترقی دیکھنے میں جبکہ زراعت سمیت تمام دیگر شعبے تنزلی کی جانب گامزن رہے۔

انہوں نے توانائی کے بحران کو ملک کی موجودہ معاشی صورت حال کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بجلی کے شعبے میں لائن لاسز بہت زیادہ ہیں اور واجبات کی مناسب وصولی بھی نہیں ہو رہی۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ گزشتہ 5 سال میں زیرِگردش قرضوں کی مد میں 1400 ارب روپے ادا کیے گئے اس وقت بھی یہ قرضہ 500 ارب روپے ہے جسے حکومت آئندہ دو ماہ میں ختم کردے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت کی مالیاتی بدنظمی کے مقابلے میں ان کی حکومت مالیاتی نظم سے متعلق تمام قوانین اور قاعدوں پر عمل کرے گی۔ ’اعداد وشمار میں شفافیت لائی جائے گی، بدعنوانی ناقابل برداشت ہو گی، اچھی طرز حکومت کو فروغ دیا جائے گا اور نتائج کے حصول کے لیے سخت محنت کو ترجیح بنایا جائے گا۔‘

وزیرخزانہ نے کہا کہ ان کی حکومت بجا طور پر ’بزنس فرینڈلی‘سمجھی جاتی ہے لیکن تاجر برادری کو اس کا غلط فائدہ انہیں اٹھانے دیا جائے گا۔ ’میری تاجر برادری سے درخواست ہے کہ وہ وہ منافع ضرور کمائیں لیکن ناجائز منافع خوری برداشت نہیں کی جائے گی۔ پورا ٹیکس دیں تاکہ ملک ترقی کرے اور سب کا فائدہ ہو۔‘

انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری کے اعداد و شمار بھی شرمناک ہیں۔ جس کی شرح چودہ اعشاریہ دو فیصد رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس شرح کے ساتھ کوئی ملک اقتصادی استحکام حاصل نہیں کر سکتا۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے گزشہ دو برس کے دوران بیروزگاری کی شرح جاننے کے لیے سروے نہیں کروایا۔ ’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سیاسی وجوہات پر یہ سروے نہیں کروایا گیا۔ ہم یہ سروے اس مالی سال کے دوران ضرور کروائیں گے۔‘