جنرل ہارون اسلم: ’بگٹی اور لابی انگ‘ آڑے آئے

لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم کی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ایک غیر رسمی ملاقات نے بھی ان کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کی
،تصویر کا کیپشنلیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم کی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ایک غیر رسمی ملاقات نے بھی ان کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کی
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستانی فوج کے سینیئر ترین لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم کو نظر انداز کیے جانے کی چند وجوہات میں سے ایک ان کا بلوچ رہنما اکبر بگٹی کی ہلاکت میں مبینہ کردار بتایا جا رہا ہے۔

اس وقت کے میجر جنرل ہارون اسلم کوئٹہ میں جنرل آفیسر کمانڈنگ تعینات تھے اور ڈیرہ بگٹی میں بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کی قیادت کر رہے تھے۔

بلوچ سردار اکبر بگٹی کو 26 اگست 2006 میں ڈیرہ بگٹی کے قریب ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کیا گیا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم کے حامی اس بارے میں کہتے ہیں کہ اکبر بگٹی کے خلاف آپریشن کے ساتھ ان کا براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس آپریشن کے لیے ہدایات براہ راست اس وقت کے صدر اور فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے کرنل عامر حمید کو دی تھیں جنھوں نے بلوچستان روانگی سے قبل جنرل مشرف سے ملاقات بھی کی تھی۔

جنرل ہارون کی مخالف لابی کہتی ہے کہ جی او سی کی موجودگی میں یہ آپریشن انھی کی ذمہ داری تھی اور اگر ان کے علم اور اجازت کے بغیر یہ واقعہ پیش آیا جس میں درجن بھر فوجی جوان ہلاک ہوئے تو یہ تو اس سے بھی زیادہ غیر ذمے داری کی بات ہے۔

پاکستانی فوج کے بعض ذرائع کے مطابق ہارون اسلم کی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ایک غیر رسمی ملاقات نے بھی ان کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کی۔

یہ رواں سال ملاقات 14 اگست کو اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب کے بعد ہوئی۔ اس موقعے پر موجود ایک سینیئر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریب ختم ہونے کے بعد نصف درجن کے قریب سینیئر فوجی افسران ہال سے باہر نکلے تو چند قدم چلنے کے بعد انھیں احساس ہوا کہ جنرل ہارون اب ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ ان افسران نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو جنرل ہارون برآمدے میں ایک طرف کھڑے تھے۔

فوجی قیادت کو بعد میں بتایا گیا کہ جنرل ہارون نے برآمدے میں کھڑے ہو کر چند منٹ وزیراعظم نواز شریف کا انتظار کیا جنھوں نے وہاں سے گزرنا تھا۔ ان کی ملاقات وزیراعظم سے ہو تو گئی لیکن فوجی قیادت ان کے اس عمل سے خاصی ناراض بھی ہو گئی۔

نواز کابینہ کے رکن لیفنٹنٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کا کہنا ہے کہ بّری فوج کی سربراہی کے ’بعض امیدواروں‘ کی جانب سے ملاقاتیں اور دوڑ دھوپ ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہیں۔ یہ بات انھوں نے میڈیا کے اس سوال کے جواب میں کہی کہ کیا جنرل راحیل نے اپنی ترقی کے لیے ان سے سفارش یا لابی انگ کروائی تھی۔

جنرل قادر بلوچ نے اس کی تردید کی لیکن ساتھ ہی کسی کا نام لیے بغیر یہ جملہ بھی کہا کہ ’جنھوں نے ’لابی انگ‘ کی کوشش کی، اس کا بھی انہیں نقصان ہوا۔‘

جنرل قادر بلوچ کا واضح اشارہ جنرل ہارون کی جانب بتایا جاتا ہے۔