عمران خان نے شیرپاؤ کو آؤٹ کر دیا

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک نے قومی وطن پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو وزرا کو کرپشن کے الزامات پر ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔
تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیرِ اعلیٰ کو حکم دیا ہے کہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی کو حکومتی اتحاد سے خارج کر دیا جائے۔
تحریک انصاف کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں عمران خان نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ قومی وطن پارٹی سے اتحاد کے راستے جدا کر دیے جائیں۔ عمران خان نے کہا کہ قومی وطن پارٹی کو دو مرتبہ تنبیہ کی گئی تھی کہ اپنے دو وزرا کرپشن سے باز رکھیں لیکن قومی وطن پارٹی نے اس بارے میں کوئی عملی اقدامات نہیں کیے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قومی وطن پارٹی نے بدعنوانی کی نشاندہی کرنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور کابینہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے قومی وطن پارٹی کے دو وزرا کو اپنے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے وزیر یوسف ایوب کی جعلی ڈگری کے فیصلے کے خلاف درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کر دی ہے۔
بیان میں وزرا کے نام نہیں دیے گئے لیکن ذرائع ابلاغ میں کہا گیا ہے کہ ان وزرا میں بخت بیدار خان اور سید ابرار حسین شامل ہیں۔
تحریک انصاف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ لوگوں نے تحریک انصاف کو بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے پر ووٹ دیا ہے اور تحریک انصاف اس بارے میں کوئی بہانہ برداشت نہیں کرے گی۔
عمران خان نے اس بیان میں کہا ہے کہ ان کے اس فیصلے کو تحریک انصاف کے سب وزرا اور اراکین اسمبلی جان لیں کہ کرپشن میں جو بھی ملوث پایا گیا اس کا انجام یہی ہو گا۔ عمران خان نے جماعت اسلامی کے اراکین اور وزرا کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب ذرائع ابلاغ میں قومی وطن پارٹی کی جانب سے بیان میں کرپشن کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر اس بارے میں کسی کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو فراہم کریں وہ خود اس بارے میں سخت کارروائی کریں گے۔
خیبر پختونخوا میں ان دنوں ایسی اطلاعات ہیں کہ بعض وزرا اور اراکین اسمبلی کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں جن کے بارے میں کرپشن کے الزامات موصول ہوئے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف، جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی اور عوامی جمہوری اتحاد پاکستان کی مخلوط حکومت قائم ہے اور صوبائی اسمبلی میں قومی وطن پارٹی کے اراکین کی تعداد دس ہے۔







