حملوں کا خوف، نیٹو سپلائی کے ڈرائیور پریشان

- مصنف, ولی خان شینواری
- عہدہ, خیبر ایجنسی
امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریکِ طالبان پا کستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلا کت کے بعد پاکستانی حکومت نے تو نیٹو سپلائی بند نہیں کی مگر سپلائی لے جانے والے درجنوں ٹرک ڈرائیوروں نے افغانستان میں تعینات امریکی اور اتحادی افواج کے لیے رسد لے جانے سے انکار کر دیا ہے۔
ٹرک ڈرائیوروں نے یہ فیصلہ حکیم اللہ محسود کی ہلا کت کے بعد نیٹو سپلائی پر جاری حملوں میں تیزی، خوف اور امن و امان کی غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر کیا ہے۔
<link type="page"><caption> نیٹو کنٹینرز: ہڑتال ختم، روانگی منگل سے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/02/130204_nato_supply_karachi_uk.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’نیٹو سپلائی باضابطہ بنانے پر پیش رفت ہوئی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120715_nato_supply_us_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
دیر کے رہائشی 45 سالہ عثمان غنی گھر کے واحد کفیل ہیں وہ بھی اس فیصلے میں شامل ہیں۔
عثمان کے مطابق ’سات نومبر کو قبائلی علاقے جمرود میں نیٹو کنٹینر پر حملے سے ڈرائیور ولی محمد کی ہلا کت کے بعد اب اس کام سے وابستہ درجنوں افراد کے سروں پر خوف کے بادل منڈلا رہے ہیں۔‘
عثمان غنی کے مطابق جب نیٹو کنٹینرز کارخانوں علاقے سے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں داخل ہوتے ہیں تو ٹرک ڈرائیورز خوفزدہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے کئی افراد نے اس کام کو خیرباد کہہ دیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کی تنظیم نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ اگر حکومت نیٹو سپلائی کو مکمل سکیورٹی فراہم نہیں کرتی تو وہ اپنی جان اور اپنے ٹرکوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے اور اتحادی افواج کو سپلائی روک دیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات فاٹا میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کے بعد ستمبر 2008 میں نیٹو سپلائی لائن پر شدت پسندوں نے حملوں کا آغاز کیا۔ طالبان نے کئی مرتبہ ان قافلوں پر حملہ کر کے کنٹینروں میں موجود سامان اور فوجی گاڑیوں کو نہ صرف نذر آتش کر دیا بلکہ درجنوں ٹرک ڈرائیوروں کو بھی ہلاک و زخمی کیا۔
طورخم سرحد پر موجود کسٹم کلیئرنس کے اہلکار ابو عامر نذیر نے کہا کہ روزانہ تقریباً ایک سو نیٹو کنٹینرز طورخم بارڈر عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کو خوراک اور جنگی سازو سامان کی فراہمی کا 70 فیصد حصہ طورخم سر حد کے راستے افغانستان پہنچایا جاتا ہے۔
سابق چیف سیکرٹری فاٹا اور دفاعی تجز یہ نگار بریگیڈیئر محمود شاہ کے مطابق حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد شدت پسندی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے اور ان نیٹو سپلائی پر حملوں میں بھی شدت آئے گی۔
پولیٹیکل انتظامیہ کے سینیئر افسر معراج خان نے بی بی سی کو بتایا کہ نیٹو سپلائی لائن کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پاک افغان شاہراہ کی چیک پوسٹوں پر سکیورٹی بڑ ھا دی گئی ہے اور نیٹو قافلوں کے ساتھ گشت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ٹرانسپوٹروں نے پاک افغان شاہراہ پر نیٹو سپلائی لائن اور ڈرائیووں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات ا ٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی سے ٹرانسپورٹروں کا انکار اور بندش سے پہلا براہِ راست نقصان تو معیشت کو ہی پہنچے گا کیونکہ بڑی بڑی کمپنیاں، مزدور اور ٹرانسپورٹر اسی کاروبار سے وابستہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت ہر ماہ پانچ سے دس ہزار ٹرک نیٹو فورسز کے لیے سامان رسد پہنچانے کے کاروبار سے منسلک ہیں اور سپلائی کی بندش سے ڈیڑھ لاکھ افراد بے روزگار ہوں گے۔
کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کنٹینروں اور آئل ٹینکروں سے کراچی پورٹ پر ٹیکس اور طورخم سرحد تک ٹیکس کی جو ادائیگی ہوتی ہے، اس مد میں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔







