’دہشت گردوں کو شہید کہنا، پاکستانی فوج کی توہین ہے‘

سید منور حسن نے کالعدم تحریکِ طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو ’شہید‘ قرار دیا اور آئی ایس پی آر کے مطابق ایسا بیان ہزاروں پاکستانی معصوم شہریوں اور پاکستانی فوجیوں کی بے عزتی ہے
،تصویر کا کیپشنسید منور حسن نے کالعدم تحریکِ طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو ’شہید‘ قرار دیا اور آئی ایس پی آر کے مطابق ایسا بیان ہزاروں پاکستانی معصوم شہریوں اور پاکستانی فوجیوں کی بے عزتی ہے

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلشنز نے جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کی جانب سے ایک ٹی وی پروگرام میں حکیم اللہ محسود کو ’شہید‘ قرار دینے کو ’غیر ذمہ دارنہ اور گمراہ کن‘ قرار دے کر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سید منور حسن نے کالعدم تحریکِ طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو ’شہید‘ قرار دیا تھا اور آئی ایس پی آر کے مطابق ایسا بیان ہزاروں پاکستانی معصوم شہریوں اور پاکستانی فوجیوں کی بے عزتی ہے۔

<link type="page"><caption> ’جماعتِ اسلامی اور طالبان کا ایک مؤقف‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110605_ji_dharna_ar.shtml" platform="highweb"/></link>

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے سید منور حسن کی جانب سے اس بیان کو ان کی جانب سے ’سیاسی فائدے کے لیے پیدا کی گئی منطق‘ کا نتیجہ قرار دیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نقطۂ نظر کے خلاف سامنے آنے والے عوامی ردِ عمل نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ پاکستانی کسے ریاست اور کسے اس کا دشمن مانتے ہیں۔

آئی ایس آر کے بیان میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’شہدا کے خاندانوں اور ان کی قربانیوں کو سید منور حسن سے توثیق کی ضرورت نہیں ہے اور اس طرح کے گمراہ کن اور ذاتیات پر مبنی بیانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم امیر جماعت اسلامی کی جانب سے آنے والا یہ بیان تکلیف دہ اور بدقسمتی ہے کہ جس جماعت کے سربراہ مولانا مودودی اسلام کی خدمات کی وجہ سے عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ان کی جماعت کے سربراہ ایسی بات کر رہے ہیں۔‘

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ سید منور حسن پاکستانی عوام اور فوج کے شہدا کے خاندانوں کے جذبات اور احساسات کو ٹھیس پہنچانے پر غیر مشروط معافی مانگیں جن کے پیاروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں دی ہیں۔

بیان میں یہ بھی توقع ظاہر کی گئی کہ جماعت اسلامی اس موضوع پر اپنا جماعتی موقف واضح کرے۔

یاد رہے کہ یکم نومبر کو پاکستان کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو امریکی ڈرون حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہو گئے تھے۔

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے انہیں شہید قرار دیا جس پر ملک کے مختلف طبقات کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آیا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود یکم نومبر کو ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے
،تصویر کا کیپشنکالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود یکم نومبر کو ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے

امیر جماعت اسلامی کے اس بیان کے بعد جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی اسی پیرائے میں ایک بیان دیا۔

مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ ’امریکہ جس کو قتل کرے گا اگر وہ کتا بھی ہوگا تو میں اسے شہید کہوں گا۔‘

یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے ان کے خلاف فُل بینچ تشکیل دینے سے متعلق درخواست ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اسے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور خان کاسی کو بھجوا دیا تھا۔

درخواست گُزار شاہد اورکزئی کا کہنا تھا کہ چونکہ اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے اس لیے مولانا فضل الرحمن سرکاری مذہب کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔