حکیم اللہ محسود طالبان کا کمانڈر

شمالی وزیرستان میں دو امریکی ڈرون حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو امریکی ڈرون حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہو گئے ہیں۔ سال دو ہزار آٹھ میں حکیم اللہ محسود نے صحافیوں کے سامنے راکٹ لانچر چلانے کا مظاہرہ کیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو امریکی ڈرون حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہو گئے ہیں۔ سال دو ہزار آٹھ میں حکیم اللہ محسود نے صحافیوں کے سامنے راکٹ لانچر چلانے کا مظاہرہ کیا تھا۔
حکیم اللہ محسود ایک ایسے وقت ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت کے ایک وفد نے سنیچر کو طالبان سے بات چیت کے لیے شمالی وزیرستان جانا تھا۔
،تصویر کا کیپشنحکیم اللہ محسود ایک ایسے وقت ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت کے ایک وفد نے سنیچر کو طالبان سے بات چیت کے لیے شمالی وزیرستان جانا تھا۔
سنہ دو ہزار چار میں جب طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود منظر عام پر آئے تو حکیم اللہ محسود ذوالفقار محسود کے نام سے ان کے ترجمان کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور بیت اللہ کی ہلاکت کے بعد انہیں تحریکِ طالبان پاکستان کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنسنہ دو ہزار چار میں جب طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود منظر عام پر آئے تو حکیم اللہ محسود ذوالفقار محسود کے نام سے ان کے ترجمان کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور بیت اللہ کی ہلاکت کے بعد انہیں تحریکِ طالبان پاکستان کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔
وہ تحریک طالبان کی قیادت سنبھالنے سے قبل کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں طالبان جنگجوؤں کی قیادت کر رہے تھے اور یہ حکیم اللہ محسود ہی تھے جنہوں نے دو ہزار سات میں دو سو پچاس پاکستانی فوجیوں کو یرغمال بنا کر حکومت کو دیوار سے لگا دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنوہ تحریک طالبان کی قیادت سنبھالنے سے قبل کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں طالبان جنگجوؤں کی قیادت کر رہے تھے اور یہ حکیم اللہ محسود ہی تھے جنہوں نے دو ہزار سات میں دو سو پچاس پاکستانی فوجیوں کو یرغمال بنا کر حکومت کو دیوار سے لگا دیا تھا۔
امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے بارے میں اطلاع دینے پر انعام رکھا ہوا تھا۔
،تصویر کا کیپشنامریکہ نے حکیم اللہ محسود کے بارے میں اطلاع دینے پر انعام رکھا ہوا تھا۔
تحریک کے امیر مقرر ہونے سے قبل وہ تین قبائلی ایجنسیوں خیبر، اورکزئی اور کرم ایجنسی کے کمانڈر تھے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ خیبر ایجنسی میں نیٹو افواج کو سامان لے جانے والی گاڑیوں پر حملے کرتے رہے ہیں جبکہ کرم ایجنسی میں شیعہ سنی فسادات میں بھی ملوث رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتحریک کے امیر مقرر ہونے سے قبل وہ تین قبائلی ایجنسیوں خیبر، اورکزئی اور کرم ایجنسی کے کمانڈر تھے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ خیبر ایجنسی میں نیٹو افواج کو سامان لے جانے والی گاڑیوں پر حملے کرتے رہے ہیں جبکہ کرم ایجنسی میں شیعہ سنی فسادات میں بھی ملوث رہے ہیں۔
حکیم اللہ محسود نے بی بی سی کو دیے گئے اپنے آخری انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحکیم اللہ محسود نے بی بی سی کو دیے گئے اپنے آخری انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
تین نومبر 2009 کے اخبار میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے یہ اشتہار دیا گیا جس میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے مطلوب رہنماؤں کی تصاویر ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتین نومبر 2009 کے اخبار میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے یہ اشتہار دیا گیا جس میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے مطلوب رہنماؤں کی تصاویر ہیں۔
چار اکتوبر 2009 کی اس تصویر میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے نئے رہنما حکیم اللہ محسود جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغہ میں صحافی سے بات حیت کرتے ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنچار اکتوبر 2009 کی اس تصویر میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے نئے رہنما حکیم اللہ محسود جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغہ میں صحافی سے بات حیت کرتے ہوئے۔