شاہ زیب کیس: ’انسدادِ دہشتگری کی دفعات خارج نہیں ہو سکتیں‘

شاہ زیب خان گو گزشتہ برس دسمبر میں قتل کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنشاہ زیب خان گو گزشتہ برس دسمبر میں قتل کیا گیا تھا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس سرمد عثمانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پیر کو ملزمان کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سنایا۔

خیال رہے کہ اس مقدمے میں مقتول کے ورثا کی جانب سے معاف کیے جانے کے باوجود شاہ رخ اور اس کے ساتھی ملزمان کو رہا نہیں کیا جا سکا ہے جس کی ایک وجہ اس مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کا شامل ہونا بھی ہے۔

مقدمے کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت چار ملزمان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ یہ قتل ذاتی جھگڑے کے نتیجے میں ہوا اس لیے یہ انسدادِ دہشت گردی کے دائرۂ کار میں نہیں آتا۔

تاہم عدالت نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

شاہ زیب خان کو گذشتہ برس دسمبر میں ڈیفنس کے علاقے میں شاہ رخ جتوئی اور اس کے دوستوں نے معمولی جھگڑے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

رواں سال جون میں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے مرکزی ملزمان بیس سالہ شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو موت جبکہ سراج کے بھائی سجاد تالپور اور ملازم غلام مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

تاہم گزشتہ ماہ شاہ زیب خان کے ورثا نے اس مقدمے میں تمام سزا یافتہ مجرموں کو معاف کر دیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے یہ عمل فی سبیل اللہ انجام دیا ہے۔ ورثا پر بااثر مجرموں کو معاف کرنے کے معاملے پر سوشل میڈیا پر اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی خاصی تنقید ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا

شاہ زیب قتل کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات خارج کرنے سے متعلق درخواست مسترد ہونے پر سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل حشمت علی حبیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دو ملزمان کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن سات کے تحت سزائے موت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی قوانین کے دفعہ 302 کے تحت سنائی جانے والی سزا ورثا قصاص و دیت کے تحت یا فی سبیل اللہ معاف کر سکتے ہیں لیکن انسداد دہشت گردی ایکٹ کی سیکشن سات کے تحت سنائی جانے والی سزا معاف نہیں ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ’انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن سات کے تحت دی جانے والی سزا کا مطلب ہے کہ ملزمان نے ایسا جرم کیا ہے جس سے معاشرے یا عام لوگوں میں عدم تحفظ پھیلا ہے، اور اس کے تحت دی جانے والی سزا پر ورثا سمجھوتہ نہیں کر سکتے ہیں اور صرف عدالت ہی اپیل پر سزا کو معاف کر سکتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ شاہ رخ جتوئی کی جانب سے پہلے ہی سزا کے خلاف اپیل سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی جا چکی ہے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کو ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ سنتا ہے۔ جس وقت اپیل کی گئی تھی تو ان ہی دنوں میں شاہ زیب کے ورثاء ملزمان کو معاف کر دیا تھا لیکن سیکشن سات کی وجہ سے ملزمان رہا نہیں ہو سکے تھے۔