شاہ زیب قتل کیس: حساب پاک ہوا

شاہ زیب خان گو گزشتہ برس دسمبر میں قتل کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنشاہ زیب خان گو گزشتہ برس دسمبر میں قتل کیا گیا تھا

پاکستان کے شہر کراچی میں گزشتہ برس قتل کیے جانے والے نوجوان شاہ زیب خان کے ورثاء نے اس مقدمے میں تمام سزا یافتہ مجرموں کو معاف کر دیا ہے۔

رواں سال جون میں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے شاہ زیب قتل کیس میں مرکزی ملزم بیس سالہ شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو موت جبکہ سراج کے بھائی سجاد تالپور اور ملازم غلام مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر کو مقتول کے والد اور ان کی اہلیہ نے مجرموں کو معاف کرنے کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں ایک بیانِ حلفی جمع کرایا ہے۔

شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کا تعلق سندھ کے بااثر اور امیرگھرانوں سے ہے
،تصویر کا کیپشنشاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کا تعلق سندھ کے بااثر اور امیرگھرانوں سے ہے

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مقتول کے ورثاء کا کہنا ہے کہ مجرمان کے اہلخانہ سے عدالت کے باہر صلح صفائی ہو گئی ہے اور قصاص اور دیت کی رقم بھی نہیں لی گئی ہے۔

شاہ زیب خان کو گزشتہ برس دسمبر میں ڈیفنس کے علاقے میں شاہ رخ جتوئی اور اس کے دوستوں نے معمولی جھگڑے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ان کی ہلاکت کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹوں ٹوئٹر اور فیس بک پر اس قتل کی مذمت کے لیے مہم کا آغاز ہوا اور اس کے علاوہ کراچی پریس کلب کے باہر بھی احتجاج کیا گیا تھا۔

اس پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے تیس دسمبر کو معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں چلانے کا حکم دیا تھا۔

اسی دوران مقدمے کا مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا اور بعدازاں سپریم کورٹ کے احکامات پر اسے دبئی سے گرفتار کر کے واپس پاکستان لایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ جون میں مجرمان کو سزا سنائے جانے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شاہ زیب کی والدہ عنبرین نے کہا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بیٹے پر گولی چلانے والے کو ملنے والی سزا پر عملدرآمد ہو تاہم اب ان کی جانب سے مجرمان کو معاف کرنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔