’پاکستان سے امتیازی سلوک ختم ہونا چاہیے‘

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے معاملے میں پاکستان سے امتیازی سلوک ختم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہیں اور وہ جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ نہیں چاہتا۔
نیویارک سے نامہ نگار کے مطابق جمعرات کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ان کے ملک نے ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کا عزم کر رکھا ہے اور وہ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کے ہر معیار پر پورا اترتا ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس سول جوہری توانائی کے لیے مہارت، افرادی قوت اور بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اور ہم اس سلسلے میں عالمی تعاون چاہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی کمی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس سلسلے میں پرامن مقاصد کے لیے سول ایٹمی توانائی کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ جوہری توانائی کے معاملے میں امتیازی پالیسی ترک کر دے کیونکہ یہ دنیا کے امن کے لیے نقصان دہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی پالیسی تحمل اور ذمہ داری کے اصولوں پر مبنی ہے اور اس کا جوہری پروگرام خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے بلاامتیاز مکمل خاتمے کی حمایت کرتا ہے جس کا مطلب چند ممالک کی نہیں بلکہ سب کی حفاظت ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نواز شریف نے بھارت اور امریکہ کے سول نیوکلیئر معاہدے کا نام لیے بغیر کہا کہ سیاست اور فائدے کے لیے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کئی بار یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ امریکہ بھارت سے کیے گئے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے معاہدے کی طرز پر پاکستان سے بھی معاہدہ کرے۔







