طالبان ہتھیار پھینکیں تو پھر۔۔
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے بُلائی گئی کُل جماعتی کانفرنس پیر کو اسلام آباد میں ہونے جا رہی ہے ۔ اس کانفرنس کا بنیادی ایجنڈا طالبان سے مذاکرات ہے۔
ویسے تو ملک کی سیکورٹی صورتحال پر ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر السلام کی بریفنگ کے بعد ہی حکومت کی پوزیشن واضح طور پر سامنے آسکے گی۔ تاہم پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان پُرامید ہیں کہ کُل جماعتی کانفرنس میں طالبان سے مذاکرات کے ضمن میں ایک متفقہ قرارداد سامنے آئے گی۔ لیکن کیا اس کانفرنس میں شرکت کرنے والی تمام سیاسی جماعتیں ، طالبان سے بات چیت کے لئے تیار ہیں ۔ اور اس سلسلے میں اُ ن کی کیا شرائط ہیں ۔
عوامی نیشنل پارٹی کا موقف
طالبان سے سب زیادہ نقصان اٹھانے والی سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر نائب صدر حاجی عدیل کہتے ہیں کہ دہشت گرد اگر پاکستان کی ریاست ، حکومت ، پارلیمان سمیت اگر پاکستان کی عدالت کو مانتے ہیں تو اُن سے بات چیت کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ہونے والی کُل جماعتی کانفرنس میں بھی عوامی نیشنل پارٹی کا موقف تھا کہ اگر طالبان پاکستان کی ریاست ، حکومت ، پارلیمان اور عدالت کو تسلیم کرتے ہیں تو اُس وقت تک مارے جانے والے اُن کے سوا آٹھ سو لوگوں کا خون بھی معاف کردیں گے۔
اگرطالبان چار شرائط پر راضی نہیں تو پھر تو اُن سے بات چیت کرنا بے معنی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی کے مطابق حکومت کے پاس زیادہ آپشنز موجود نہیں ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں دو ہی طریقے
بچتے ہیں کہ یا تومذاکرات کئے جائیں یا پھر دہشت گردوں کے اُوپر بھاری ہاتھ کے ساتھ جایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں طالبان کا ہاتھ ہی اوپر نظر آتا ہے۔
حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ پہلے وہ شدت پسندوں پر غلبہ حاصل کرے پھر اُن سے مذاکرات کیے جائیں۔
تحریک انصاف پاکستان
حالیہ انتخابات میں صوبہ خیبر پختون خوا میں مرکزی سیاسی جماعت بن کر سامنے آنے والی پاکستان تحریک انصاف کے ممبر پارلیمان شفقت محمود نے بتایا کہ طالبان سے مذاکرات کے ضمن میں اُن کی جماعت نے چار نکات طے کئِے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
- امریکہ کی جنگ سے الگ ہوا جائے
- ڈرون حملے بند کرائے جائیں ۔
- شدت پسندوں کے ساتھ بات چیت کی جائے ،
- جو شدت پسندمصالحت کے لیے بالکل تیار نہ ہوں تو اُن کے لئے آخری راستہ فوج ہونا چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی
پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم نے بتایا کہ پارٹی کی میٹنگ میں جماعت کے موقف پہ مشاورت کی جائے گی تاہم انہوں نے پیپلز پارٹی کا سابقہ مؤقف ایک بار پھر دُہراتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی ، موجودہ مسلم لیگ نواز کی حکومت کے ہر اُس قدم پہ حمایت کرے گی جو پاکستان اور پاکستان کی عوام کے فائدے میں ہو۔
طالبان سے مذاکرات کے بارے میں ، کل جماعتی کانفرنس میں شرکت سے قبل تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ شدت پسندوں سے ایک ہی صورت میں مذاکرات ممکن ہیں جب وہ پاکستان کے آئین کا احترام اور اس کی پاسداری کریں ۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا طالبان، ہتھیار پھینک کر ، آئینِ پاکستان۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کے اس ممکنہ ایجنڈے کو قبول کرکے بات چیت کے لئے راضی ہوں گے۔ اور اُنکی کیا شرائط ہوں گی۔







