سپہ سالار کی تعیناتی

    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

آج سے ٹھیک ایک ماہ بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں کی ریٹائرمنٹ کے باعث پاکستانی مسلح افواج کے اعلیٰٰ ترین عہدہ نئی تقرری کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔

روایتی طور پر مسلح افواج میں اہم ترین عہدوں پر تعیناتی کے لیے ناموں کا اعلان ایک ماہ قبل کر دیا جاتا ہے لہٰذا اس اعلیٰ عہدے کے لیے نئے افسر کا نام اب کسی بھی وقت متوقع ہے۔

چیئرمین جے سی ایس سی کا عہدہ عملاً رسمی کہلاتا ہے اس لیے اس پر تعیناتی اتنی زیادہ اہمیت نہیں رکھتی لیکن اس بار یہ تقرری اس لیے اہم ہے کہ اس کے لیے افسر نامزد ہونے سے بری فوج کے سربراہ کے نومبر میں خالی ہونے والے عہدے کے لیے تعیناتی کے بارے میں بھی صورت حال خاصی واضح ہو جائے گی۔

اس وقت ان اہم تقرریوں کے لیے ایک سے زائد منظر نامے تشکیل پا رہے ہیں۔

جنرل ہارون اسلم بطور چیئرمین جے سی ایس سی

جنرل ہارون( دائیں جانب) اور بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی
،تصویر کا کیپشنجنرل ہارون( دائیں جانب) اور بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی

پاکستان کی کمانڈو یونٹ کے سابق سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بعد سینیئر ترین فوجی افسر ہیں۔اگر وزیرِاعظم نواز شریف سینیارٹی کو ملحوظ رکھتے ہیں اور مسلح افواج میں ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہیں تو لیفٹنٹ جنرل ہارون، جنرل ہارون تو بن جائیں گے لیکن شائد بری فوج کی سربراہی ان کے حصے میں نہ آئے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے پہلے فور سٹار جنرل کا ایک اور عہدہ خالی ہو جائے گا اور وہ ہے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی۔ اس عہدے پر موجودہ جنرل خالد شمیم وائیں اگلے ماہ یعنی اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ریٹائر ہو جائیں گے۔ ایسے میں اصولاً جنرل ہارون ترقی پا کر اس کی جگہ لیں گے۔

پاکستانی بری فوج کی لاجسٹک برانچ کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ہارون اسلم کی وزیرِاعظم نواز شریف کے ساتھ ایک مختصر اور غیر رسمی ملاقات نے حکومت کے ایوانوں میں نئی فوجی سربراہ کی تقرری کے بارے میں جاری چہ مہ گوئیوں کو مذید ہوا دی ہے۔

وزیرِاعظم اور پاکستانی فوج کے سب سے سینیئر لیفٹنٹ جنرل کے درمیان یہ مختصر سی ملاقات چودہ اگست کو اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں ہوئی جہاں یومِ آزادی کی تقریب منعقد کی جا رہی تھی۔

پاکستانی فوج کے کسی بھی سینیئر افسر کی اس موقع پر موجودگی اور وزیرِاعظم سے سامنا کوئی غیر معمولی واقعہ ہے اور نہ ہی عام حالات میں یہ بات اتنی اہم ہے کہ اس کی خبر بن جائے۔ لیکن وزیراعظم کے قریبی حلقوں نے اس ’اتفاقیہ‘ ملاقات کو خاصی دلچسپی سے دیکھا اور اب غیر متوقع اہمیت بھی دے رہے ہیں۔

لیفٹنٹ جنرل ہارون بطور فوجی سربراہ

لیکن ایک صورت ایسی ہے کہ یہ بازی جنرل ہارون کے حق میں پلٹ بھی سکتی ہے۔ پاکستان میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا عہدہ مسلح افواج کا اعلیٰ ترین عہدہ ہے۔اس عہدے پر باری باری تینوں مسلح افواج سے تعیناتی کی جاتی ہے۔

لیکن جب بھی فوجی بغاوت ہو اور بری فوج کے سربراہ ملکی باگ ڈور سنبھالیں اور یہ عرصہ ان کی بری فوج کے سربراہ کی معیاد میں بھی اضافے کا باعث بنے، جیسا کہ جنرل پرویز مشرف اور جنرل ضیا الحق کے دور میں ہوا، تو مسلح افواج کے اس اعلیٰ ترین عہدے پر بری فوج کے افسر کو ہی تعینات کیا جاتا ہے تاکہ فوج میں اعلیٰ افسروں میں ترقیوں کا عمل رکاوٹ کا شکار نہ ہو۔

اگر باری اور اصول کو سامنے رکھا جائے تو جنرل خالد شمیم وائں کی جگہ بحری فوج کے افسر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعینات ہونا چاہیے۔ اس صورت میں جنرل ہارون، جنرل اشفاق کیانی کی ریٹائرمنٹ کے وقت سینیئر ترین فوجی افسر ہوں گے۔

لیفٹنٹ جنرل راشد محمود

مدت ملازمت کے لحاظ سے تو لیفٹنٹ جنرل راشد اور جنرل ہارون ایک برابر ہیں لیکن ملٹری اکیڈمی کے ریکارڈ نے جنرل راشد کو سینیارٹی میں اپنے ساتھی جنرل ہارون سے ایک قدم پیچھے کر دیا ہے۔

جنرل راشد جنرل اشفاق پرویز کیانی کی بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان دونوں افسروں میں گو سینیارٹی کے لحاظ سے خاصہ فرق ہے لیکن ایک ہی رجمنٹ سے تعلق کی بنا پر دونوں ذاتی طور پر بھی خاصے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

جنرل راشد پاکستانی فوج کے کلیدی عہدے، چیف آف جنرل سٹاف پر تعینات ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ اس عہدے پر انہیں جنرل کیانی سے ذاتی تعلق کی بنا پر تعینات کیا گیا ہے ان کی قابلیت کے ساتھ نا انصافی ہو گی۔

جی ایچ کیو میں خاصہ وقت گزارنے والے ایک سینیئر فوجی افسر کے بقول اگر فوج کی رائے لی جائے تو ایک بڑی اکثریت جنرل راشد کے حق میں سامنے آئے گی۔

جنرل راشد کم گو، جنگی حکمت عملی کے ماہر اور دانشور قسم کے جنرل سمجھے جاتے ہیں۔ لیفٹنٹ جنرل ہارون اسلم کی بطور چیئرمین جے سی ایس سی تعیناتی کی صورت میں وہ بری فوج کے سینیئر ترین افسر بن جائیں گے۔

جنرل راحیل شریف

جنرل راشد کی کم گوئی اور دانشورانہ طبیعت کے مقابلے میں جنرل راحیل ’کھلے ڈْلے‘افسر خیال کیے جاتے ہیں۔ اگر اسے تضحیک کے معنوں میں سمجھا جا رہا ہے تو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جنرل راحیل اپنی شخصیت کے اس پہلو کے باعث صاف گو اور ’اپ رائٹ‘ افسر کے طور پر اپنے افسران، ماتحتوں اور ساتھیوں میں خاصے مقبول ہیں۔

سرکاری اجلاسوں اور نجی محفلوں میں ان کی رائے ٹھوس اور بلا تکلف انداز میں سامنے آتی ہے اور بہت توجہ سے سنی جاتی ہے۔

جنرل راحیل شریف نشانِ حیدر پانے والے میجر شبیر شریف کے چھوٹے بھائی ہیں۔ لاھور اور کشمیر سے تعلق ہونے کے باعث ان کے والد کے میاں نواز شریف کے والد سے روابط رہے ہیں۔

لیفٹنٹ جنرل ظہیر الاسلام عباسی

جنرل کیانی کے ساتھ جنرل ظہیر الاسلام عباسی دائیں جانب
،تصویر کا کیپشنجنرل کیانی کے ساتھ جنرل ظہیر الاسلام عباسی دائیں جانب

ویسے تو بات جنرل عباسی تک پہنچنے سے پہلے ایک آدھ اور جنرل سے گزرے گی لیکن پاکستان کے حالات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کی ترجیحات جنرل عباسی کو اپنے بعض سینیئر ساتھیوں پر فوقیت دلوانے کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔

وہ انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سربراہ ہیں۔ اس لحاظ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ، طالبان کے ساتھ لڑائی یا بات چیت، افغانستان کے موجودہ حالات اور مستقبل کا نقشہ، بھارتی حکومت کے عزائم اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں جتنی براہ راست اطلاعات ان کے پاس ہیں، شائد کسی دوسرے فوجی افسر کی اس تک رسائی نہ ہو۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اقتدار کی راہداریوں میں آمد و وفت اور وزیرِاعظم اور ان کی ٹیم کے ساتھ بعض نازک معاملات پر ’فرینک‘ گفتگو انھیں بھی پاکستانی فوج کے اس اعلیٰ منصب کا حق دار بنا سکتی ہے۔

پاکستان میں فوجی سربراہ کے عہدے پر سینیئر ترین افسر کی تعیناتی ایسی روایت ہے جو بارہا ٹوٹی ہے۔ فوج کے اندر بھی اس بارے میں ایک رائے نہیں ہے۔بعض افسر کہتے ہیں کہ فوجی سربراہ کی تعیناتی کے وقت قابلیت کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ دو مزید عناصر ہیں جو فوجی سربراہ کے انتخاب میں فیصلہ کن ہو سکتے ہیں۔

مدت ملازمت مکمل کرنے والے فوجی سربراہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی دانست میں اپنے موزوں ترین جانشین منتخب کرے اور اپنی رائے سے وزیرِاعظم کو آگاہ کر دے۔

وزیرِاعظم فوج کے سینیئر لیفٹنٹ جنرلز میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے میں آزاد ہیں اور اس کے لیے سینیئر ترین افسر کا چناؤ یا اپنی مدت مکمل کرنے والے فوجی سربراہ کی تجویز سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔