کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے عالمی دن کے موقع پر ایک احتجاجی مظاہرے میں لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ مظاہرہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز اور بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام کیا گیا۔ کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے اس مظاہرے میں خوتین اور بچے بھی شریک تھے۔مظاہرے کے شرکا نے اس موقعے پر بھر پور نعرے بازی کی۔ ان کے نعرے’تمام لاپتہ بلوچوں کو بازیاب کرو، دوران حراست لاپتہ بلوچوں کا قتل بند کرو اور ریاستی دہشت گردی نہیں چلے گی‘ پر مشتمل تھے۔
نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق مظاہرے کے شرکا سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ لاپتہ افراد میں سے سینکڑوں افراد کو تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں پھینکی گئی ہیں۔ انہوں نے حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظمیوں سے اپیل کی کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
مظاہرے میں شریک ایک طالبہ فرزانہ مجید نے بتایا کہ وہ 2009 سے لاپتہ اپنے بھائی ذاکر مجید کی بازیابی کے لیے اس مظاہرے میں شرکت کے لیے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آج اس لیے آئی ہیں تاکہ دنیا کو یہ بتا سکے کہ بلوچستان میں بہت زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرے میں شریک ایک اور شخص ڈاکٹر سرور بنگلزئی کا کہنا تھا کہ ’کوئٹہ کے قریب مستونگ کے علاقے اسپلنجی سے انہیں اور ان کے بھانجے طفراللہ بنگلزئی کو 13جولائی 2010 کو ایک آپریشن کے دوران اٹھایا گیا۔‘ انہوں نے بتایا کہ 13 دن حراست میں رکھنے کے بعد ان کو چھوڑ دیا گیا جبکہ ان کا بھانجا ابھی تک لاپتہ ہے۔
بلوچستان میں سنہ 2002 میں حالات کی خرابی کے بعد لوگوں کی گمشدگی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 26 اور27 اگست کو کوئٹہ میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کے دوران یہ کہا تھا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ سپریم کورٹ نے 70 کیسوں میں حکومت کو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دو ہفتے کی مہلت دی تھی۔
حقوق انسانی کی عالمی تنظیمیں متعدد بار بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے پر اپنے خدشات کا اظہار اور حکومت سے اس ضمن میں عملی اقدامات اٹھانے کے مطالبات کر چکی ہیں۔







