کراچی سے دو لاپتہ بلوچوں کی لاشیں برآمد

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے مزید دو بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں۔
لاپتہ بلوچوں کے لیے سرگرم تنظیم وائس فار مسنگ پرسنز کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان گزشتہ دس روز سے لاپتہ تھے۔
مقامی پولیس کے مطابق یہ لاشیں منگل کو سرجانی ٹاؤن کے علاقے نادرن بائی پاس پر ویرانے میں پڑی ہوئی ملیں اور دونوں کے گلے میں پھندے اور جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔
پولیس کو لاشوں کے ساتھ پرچیاں بھی ملی ہیں جن پر ان کے نام محمد رمضان اور عبدالغفور بلوچ تحریر تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق دونوں لاشوں کو عباسی شہید ہپستال منتقل کیا گیا جہاں سے ورثا خاموشی سے اپنے ساتھ لیکر روانہ ہوگئے۔
اس سے پہلے بھی اسی علاقے سے لاپتہ نوجوانوں کی لاشیں مل چکی ہیں، جن کا تعلق بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تھا۔
وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین عبدالقدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوان بلوچ نیشنل موومنٹ کے کارکن اور طالب علم تھے اور ان کا تعلق تربت کے قریبی علاقوں سے تھا۔
ان کے مطابق انہیں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ بی ایس او آزاد کے سیکرٹری رضا جہانگیر کی نمازے جنازہ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ پیر کو ہی پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ بلوچستان کو نظرانداز کرنے اور بےحسی اور لاتعلقی کا دور ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی دعوت دی بھی تھی۔
پاکستان میں گیارہ مئی کے انتخابات کے نتیجے میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد لاپتہ بلوچ افراد کی تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی میں تیزی آئی ہے اور کراچی کے علاوہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بھی ایسی درجنوں لاشیں مل چکی ہیں۔







