خفیہ اداروں کا مشترکہ سیکرٹیریٹ بنانے کا فیصلہ

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے نہ صرف انسداد دہشتگردی کے قومی ادارے کو فعال بنایا جائےگا بلکہ اس سلسلے میں ملک کی تمام خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں پر مشتمل ایک مشترکہ انٹیلیجنس سیکرٹیریٹ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
<link type="page"><caption> انسدادِ دہشتگردی کے لیے نئی پانچ نکاتی پالیسی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/07/130712_necta_terrorism_policy_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
منگل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پالیسی پر کام جاری ہے اور اس پالیسی کو دو حصوں میں تقسم کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے حصے میں ایک داخلی پالیسی ہے جس میں سرفہرست انسداد دہشت گردی پالیسی ہے جس کا اعلان پہلے مرحلے میں کیا جائے گا جبکہ نیشنل سکیورٹی پالیسی کا دوسرا حصہ سٹریٹیجک اور بیرونی نتائج پر مبنی ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ نئی سکیورٹی پالیسی کا ابتدائی خاکہ 2 ہفتوں میں وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا جبکہ اس معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس رواں ماہ ہی منعقد کی جائے گی۔
قومی سلامتی پالیسی کے چیدہ چیدہ نکات بتاتے ہوئے چوہدری نثار علی نے کہا ملک کے خفیہ اداروں پر مشتمل ایک مشترکہ انٹیلیجنس سیکرٹیریٹ قائم کیا جا رہا ہے اور ’یہ سیکرٹیریٹ آئی ایس آئی، آئی بی اور تمام صوبائی ایجنسیوں کا فوکل پوائنٹ ہوگا اور اسے مکمل طور پر جدید خطوط پر تشکیل دیا جائے گا اور دنوں میں نہیں گھنٹوں میں ایکشن ہوگا‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس وقت ’فوری ضرورت داخلی پالیسی کی ہے جس میں زیادہ توجہ ایک ایسے ادارے کے قیام پر ہے جو ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کی نگرانی بھی کرے اور رابطہ کاری بھی کرے اور مجموعی صورتحال کو بھی دیکھے اور<link type="page"><caption> اس ادارے کا نام نیکٹا ہے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/07/130712_necta_terrorism_policy_zs.shtml" platform="highweb"/></link>۔‘
انہوں نے کہا کہ نیکٹا گزشتہ دورِ حکومت میں قائم کیا گیا لیکن ابھی تک غیرفعال ہے اور اس کا ابھی تک سربراہ اور نائب سربراہ بھی نہیں تھا لیکن اب سکیورٹی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے نیکٹا کو فعال بنایا جائے گا اور قانون سازی کے مطابق نیکٹا کے تمام خالی عہدوں پر اہلکار تعینات کرنے کے لیے اشتہار دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ دنوں کوئٹہ کی پولیس لائن میں خودکش حملے کے بعد وزیرِاعظم نے وزیرِ داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ تیس اگست تک انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی کے مسودے کو حتمی شکل دے دیں۔
خیال رہے کہ موجودہ حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی پالیسی کا مسودہ تیار کرنے کا کام شروع کیا تھا۔ حکومت سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی بنیاد پر پالیسی تیار کرنے کا ارادہ رکھتی تھی تاہم وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے اصرار پر وزیراعظم نواز شریف نے پالیسی کا مسودہ پہلے تیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ قانون سازی کے لیے سیاسی اتفاق رائے قائم کرنا ہوگا جس کے لیے بنیادی امور طے کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے لیے کام تکمیل کے قریب ہے اور اسی ماہ میں کانفرنس کا انعقاد ہوگا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ جس نکتے پر تمام جماعتیں متفق ہوں گی اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو پوری قوم کا اتفاق ہونا چاہیے اور اگر فوجی کارروائی کرنی ہے تو اس پر بھی پوری قوم کا اتفاق ہونا چاہیے۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں فوجی قیادت کی طرف سے سیاسی قیادت کو بریفنگ بھی دی جائے گی۔ چوہدری نثار کا مزید کہنا تھا کہ ڈرون حملوں پر مشترکہ پالیسی کی تشکیل بھی اے پی سی کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔







