’وہاں کارروائی ضروری ہے جہاں پر ’بڑے‘ بیٹھتے ہیں‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے خفیہ اداروں نے خبردار کیا ہے کہ شدت پسندوں نے پاکستانی بحریہ، ائرفورس کے ہیڈ کوراٹرز اور پارلیمنٹ ہاؤس پر ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کرلی ہے اور اس کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فوجی خفیہ ادارے نے تین روز قبل کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر جس کا نام ولید بن طالب بتایا جاتا ہے، کی ایک گفتگو ریکارڈ کی ہے جس میں وہ دوسرے کمانڈر سے کہہ رہے تھے کہ ’ڈیرہ اسماعیل جیل کے واقعہ کے بعد اُن کے مقاصد کچھ حد تک حاصل تو ہوئے ہیں لیکن بڑے مقاصد کے حصول کے لیے وہاں کارروائی ضروری ہے جہاں پر ’بڑے‘ بیٹھتے ہیں‘۔
وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ٹیلیفونک گفتگو میں اسلام آباد میں ’بڑے گھروں‘ کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہاں کے مکینوں کو سبق سکھانا ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق بڑے گھروں سے مراد پارلیمنٹ ہاؤس، پاکستان نیوی اور پاکستان ائرفورس کے ہیڈ کوارٹرز ہیں۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس ’بڑے گھروں‘ کے مکینوں کے خلاف بھی اُسی طرح کارروائی کے بارے میں کہا گیا تھا جس طرح کی کارروائی چند روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان کی سینٹرل جیل میں کی گئی تھی جس میں دو سو سے زائد قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر شدت پسندوں کے حملوں سے متعلق خفیہ اداروں نے جو رپورٹ بھیجی تھی شدت پسندوں نے ویسی ہی کارروائی کی۔ اُس رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ شدت پسندوں کے حملوں سے پہلے جیل کے اندر ہنگامہ کیا جائے گا جس پر جیل اور پولیس کے حکام اس معاملے کو نمٹانے میں لگے ہوں گے اور جیل کے باہر سکیورٹی تسلی بخش نہیں ہوگی جس کا شدت پسند فائدہ اُٹھاتے ہوئے جیل پر حملہ کردیں گے۔
عینی شاہدین اور صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت کا موقف ہے کہ جس وقت شدت پسندوں نے سینٹرل جیل پر حملہ کیا تو اُس وقت جیل کے اندر کوئی ہنگامہ نہیں ہو رہا تھا اور جیل کے باہر سکیورٹی فورسز کی چوکیاں موجود تھیں۔
اس ٹیلی فونک گفتگو کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ کی دی گئی ہے اور مارگلہ کی پہاڑیوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس، نیول اور ائرفورس کے ہیڈ کوارٹرز مارگلہ کی پہاڑیوں کے قریب واقع ہیں۔
وزارت داخلہ نے اسلام آباد کی پولیس اور انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ان شدت پسندوں کے سہولت کاروں پر نظر رکھی جائے۔
ایس پی صدر سرکل جمیل ہاشمی کے مطابق مارگلہ کی پہاڑیوں پر اگرچہ پہلے سے ہی پولیس اہلکار موجود ہیں لیکن وہاں پر اب کمانڈوز کو بھی تعینات کردیا گیا ہے جس میں پولیس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل کے واقعے کے بعد بینظیر بھٹو انٹرنیشل ائرپورٹ پر بھی حفاظتی اقدمات کو مزید سخت کردیا گیا ہے اور رات گیارہ بجے سے لے کر صبح چھ بجے تک ائرپورٹ کی حدود میں گاڑیوں کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔







