’طالبان بیس گاڑیوں میں آئے‘

بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق اس حملے میں مختلف نوعیت کے 30 سے زائد دھماکے کیے گئے
،تصویر کا کیپشنبم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق اس حملے میں مختلف نوعیت کے 30 سے زائد دھماکے کیے گئے
    • مصنف, احمد ولی مجیب
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی سینٹرل جیل پر سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے جبکہ حملہ آوروں نے اس حملے میں 243 قیدیوں کو رہا کرا لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے طالبان کے جنگجو 20 گاڑیوں میں سوار ہو کر حملے کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے جیل سے کچھ فرلانگ کے فاصلے پر موجود پولیس کی چوکی پر حملہ کیا اور پھر مرکزی دروازے سے جیل میں داخل ہوئے۔

رہا ہونے والے طالبان

ذرائع کے مطابق طالبان نے اس حملے میں جن قیدیوں کو رہا کرایا ہے ان میں عبدالحکیم اور حاجی الیاس نامی طالبان کے اہم کمانڈرز کے علاوہ ولید اکبر نامی شدت پسند بھی شامل ہیں۔

ولید اکبر گزشتہ سال ڈیرہ اسماعیل خان میں محرم کے جلوس میں حملے کے مرکزی ملزم تھے اور اس کے علاوہ بھی بہت سارے واقعات میں سزا کاٹ رہے تھے۔

ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے طالبان کے چند اہم کمانڈر بھی فرار ہونے والوں میں شامل ہیں لیکن تاحال ان کے نام معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔

جیل میں قید کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما خلیفہ عبدالقیوم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ تاحال جیل میں موجود ہیں۔

بم ڈسپوزل سکواڈ

بم ڈسپوزل سکواڈ کے انچارچ عنایت ٹائیگر نے بتایا کہ اس حملے میں 30 سے زائد مختلف نوعیت کے دھماکے کیے گئے جس میں چھوٹے اور بڑے آئی عی ڈیز سمیت جی ایل گرینیڈ اور ہینڈ گرینیڈ کے دھماکے بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پچاس کے قریب آئی عی ڈیز کو ناکارہ بنایا گیا ہے جبکہ پندرہ راکٹ کے گولوں سمیت ایک خود کش جیکٹ بھی ملی ہے۔