متبادل نظامِ انصاف کا بڑھتا ہوا رجحان
- مصنف, محمود جان بابر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
فہد حسین پشاور میں رہتے ہیں۔ ان کے گھر پر کچھ لوگوں نے چند سال پہلے اُس وقت قبضہ کر لیا جب فہد نے انہیں مکان کرایے پر دیا اور خود بیرون ملک چلے گئے۔
فہد وطن واپس لوٹے اور اپنے ہی گھر میں رہنے کی خواہش ظاہرکی تو کرائے دار نے اسی مکان کی ملکیت کی ’اصل و قانونی‘ دستاویز پیش کر کے گھر خالی کرنے سے انکار کر دیا۔
بی بی سی کو اپنی داستان سناتے ہوئے فہد حسین کا کہنا تھا کہ ایک لمحے کے لیے تو ان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
’اس موقع پر وہ دادرسی کے لیے پولیس کے پاس گئے اور ان کے سامنے خوب روئے دھوئے مگر پھر وہاں سے مایوس ہو کر جائیدادوں کی رجسٹریاں لکھنے والے رجسٹرار کے دفترمیں گئے‘۔

اس دفتر میں انھوں نے سوال کیا کہ ان کی غیرموجودگی میں ان کا مکان کیسے کسی اور کے نام ہوگیا، تو وہاں سے قانون نہ سمجھنے کے طعنے سننے پڑے۔ اس کے بعد وہ ایک وکیل کے دفتر پہنچے، کیس تیار کر کے عدالت میں گئے جہاں تاریخیں پڑنا شروع ہوئیں اور مہینوں بیت گئے۔
فہد حسین آخرکار دلبرداشتہ ہو کر ایک دوست کے ذریعے کچھ بااثر عناصر کے پاس پہنچ گئے۔
’میں ان کے پاس پہنچا تو وہاں پر دروازے پر اور اندر راہداریوں میں گن مین پہرہ دے رہے تھے اور شکل اور رتبے سے سرغنہ معلوم ہونے والے شخص نے مجھے سب اچھا ہونے کی تسلی دی۔ خود اس کے سامنے بھی ایک بڑی بندوق پڑی تھی۔ انہوں نے میرا جرگہ شروع کیا اور کچھ دن بعد کچھ ایسی حالت میں ان کے ہاں سے نکلا کہ میری رکھی ہوئی زر ضمانت کی رقم بھی لٹ چکی تھی۔‘
فہد حسین کا کہنا تھا کہ اس بے نتیجہ مصالحتی عمل کے دوران جرگہ عمائدین نے اس کے ہزاروں روپے کے کھانے بھی کھائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فہد حسین کے معاملے میں حکومتی اہلکاروں کے علاوہ ان لوگوں نے بھی فائدہ اٹھایا جو پہلے پہل چھوٹے موٹے جرائم کر کے زندگی کے دن گذارتے تھے۔

ان امور پرگرفت رکھنے والے ایک معتبر شہری نے بتایا کہ یہ تو معمول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں بعض سیاسی جماعتوں کے پاس ایسے گروپ ہیں جو لوگوں کے تنازعات کے حل کے فیصلے کرتے ہیں اور اس کے بدلے انہیں سیاسی جماعت میں مقام اور عزت ملتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جماعت ان کی ان خدمات سے پیدا ہونے والی خیرسگالی اور ان کی لڑنے کی صلاحیت کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے لاہور اور پنجاب کے دیگر حصوں سے لوگ دادرسی کے لیے پشاور جاتے تھے لیکن اب ان شہروں میں خود بااثر اور سیاسی طور پر مضبوط گروپ موجود ہیں جو خود ہی بڑے سے بڑے تنازعے کا فیصلہ چند دن میں ’آوٹ آف کورٹ‘ ہی کر جاتے ہیں۔
بلوچستان میں یہ کام چھوٹے بڑے سرداروں کے کارندے کرتے ہیں اور جہاں تک تعلق ہے خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کا تو، وہ تو ہے ہی وہ خطہ جہاں سے اس عمل کو فروغ ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تو یہ گروہ خود اپنے مقصد کے شکاروں کو تاڑ کر ایسا ماحول بناتے ہیں کہ وہ خود ہی اپنے مال و املاک سمیت ان کے چنگل میں آ جاتا ہے۔
سپریم کورٹ کے وکیل نور عالم ایڈووکیٹ کی منطق تھی کہ دراصل عدالتوں سے فیصلے آنے میں جب تاخیر ہوئی تو پہلے تو طالبان نے لوگوں کو یہ نظام انصاف دیا اور جب وہ حکومتی ایکشن کے نتیجے میں کچھ علاقوں تک محدود ہوگئے تو جرائم پیشہ لوگوں نے کچھ نئی شکل کے ساتھ ان کی جگہ لے لی اور وہ فیصلے جو عدالت میں سالوں میں نہیں ہو پاتے تھے، ان لوگوں نے صرف چند دنوں میں کر دیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں موجود بندوق اور معاشرے میں ان کا اثر لوگوں کو ان کے فیصلے ماننے پر مجبور کرتا ہے۔
ایک مصالحت کار شیخ محمد اکرم کہتے ہیں کہ پہلے تھانے میں شریفوں کی بھی سنی جاتی تھی لیکن اب جب سے جرائم پیشہ عناصر اس میدان میں آئے ہیں اور پولیس نے ان بدمعاشوں کو پروٹوکول دینا شروع کیا ہے تو ان جیسے لوگ اب یہ کام چھوڑتے جا رہے ہیں۔
جرائم کی دنیا سے توبہ کر کے اب مصالحت کا یہ کام کرنے والے ایک شخص جو آج کل ایک غیرسرکاری جج ہیں، روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کے مسئلے حل کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ پولیس اور عدالت کے مقابلے میں ان کے فیصلے اس لیے زیادہ پائیدار ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہرفیصلہ سنانے سے پہلے فریقین کو سمجھاتے ہیں کہ اگر وہ اس معاملے کو ختم نہیں کریں گے تو ان کی نسلیں تباہی کی یہ جنگ لڑتی رہیں گی، جانیں بھی جائیں گی اور دولت بھی۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ لوگ بات کوسمجھ جاتے ہیں جبکہ عدالت میں انہیں فیصلے کے نام پر کاغذ کا ایک ٹکڑا تھما دیا جاتا ہے اور فریقین اسے ماننے کی بجائے ایک دوسرے کو ہرانے کے لیے اور راستے ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے والی جماعت تحریک انصاف کے ترجمان شوکت یوسفزئی سے جب پوچھا گیا کہ ان کی حکومت انصاف سے متعلق لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے کیا کر رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت جرائم میں ملوث لوگوں کی حوصلہ شکنی کرے گی اور کوشش کرے گی کہ تھانوں کی سطح پر غیرسیاسی بنیادوں پر ایسی کمیٹیاں بنائی جائیں جو کسی بھی تنازعے کی صورت میں ایف آئی آر کے اندراج سے پہلے ہی اس کو حل کر لے اور اس میں تحریک انصاف کے علاوہ بھی لوگ ہونگے جن کی کمیٹی میں شرکت صرف اہلیت کی شرط پر ہوگی۔
ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ وہ اس سے باخبر ہیں کہ جرائم کی دنیا میں رہنے والے بعض لوگ یہ کام کرتے ہیں جن کے کئی مقاصد ہو سکتے ہیں جن میں اپنی ساکھ کو بہتر بنانے سمیت اس کام کی آڑ میں اپنے دھندے چلانا بھی ہو سکتا ہے لیکن ان کی حکومت عدالتی نظام کو بھی تقویت دے گی تاکہ لوگوں کو ہر جگہ سے جلد اور سستا انصاف مل سکے۔







