ملالہ پاکستان آئی تو پھر نشانہ بنائیں گے: طالبان

کالعدم تحریک طالبان کے ایک سینئر راہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ عدنان رشید نہ تو تحریک کے سینئرکمانڈر ہیں اور نہ ہی ان کی جانب سے ملالہ یوسف زئی کو بھیجے جانے والےخط سے تحریک کا کوئی تعلق ہے۔
طالبان رہنما کے مطابق ملالہ کے لئے کوئی ہمدردی نہیں ان کو ان کی سیکولر تعلیم کا پرچار اور مغربی پروپیگنڈے کا حصہ بننے کی وجہ سے نشانہ بنایاگیا تھا۔اگر وہ پاکستان آئی تو ان کو نشانہ بنایا جائےگا۔
طالبان راہنما کے مطابق طالبان شوری نے عدنان رشید کے خط کا اصل مسودہ طلب کیا ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ اس خط میں کونسی باتیں تحریک کے اصولوں کے خلاف ہے۔ شوری اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ اس خط کے لکھنے کا مقصد کیا تھا
پاکستان میں طالبان کے سرکردہ رہنما عدنان رشید نے کہا ہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں ملالہ یوسف زئی پر طالبان کے حملے سے انھیں ’دھچکا‘ پہنچا تھا۔
سوات سے تعلق رکھنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ پر حملے کے بعد طالبان کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے رہنما نے برطانیہ میں مقیم ملالہ یوسف زئی کو ایک خط بھیجا ہے جس میں پچھلے سال اکتوبر میں ان پر قاتلانہ حملہ کرنے کے مقاصد کی وضاحت کی گئی ہے۔



