شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، دو ہلاک

پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج ہوتا رہا ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج ہوتا رہا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق امریکی ڈرون طیارے کے حملے کے نتیجے میں دو مشتبہ غیر ملکی شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ حملہ سنیچر کی رات کو ایجنسی کے صدر مقام میران شاہ سے پینتیس کلومیٹر دور تحصیل میر علی کے علاقے میں ہوا اور مقامی ذرائع کے مطابق اس میں ایک موٹرسائیکل کو نشانہ بنایا گیا۔

مقامی سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’ڈرون حملے کا ہدف موٹر سائیکل پر سوار شدت پسند تھے اور اس حملے میں قریبی مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔‘

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی قومیت کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا ہے۔

یہ رواں ماہ میں دوسرا اور ملک میں میاں نواز شریف کی حکومت کے قیام کے بعد تیسرا ڈرون حملہ ہے۔ اس سے قبل دو جولائی کو شمالی وزیرستان میں ہی ایک ڈرون حملے میں سترہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان میں امریکی ڈرون طیاروں کے میزائل حملوں کا سلسلہ کئی برس سے جاری ہے اور اس میں جہاں تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود، نائب امیر ولی الرحمن، اہم کمانڈر مولوی نذیر اور قاری حسین کے علاوہ القاعدہ کے کئی اہم رہنما مارے گئے ہیں وہاں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

حکومتِ پاکستان کا مستقل موقف یہی ہے کہ ڈرون حملوں کے نقصانات ان سے حاصل ہونے والے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں اور جہاں ان حملوں میں معصوم شہری ہلاک ہوتے ہیں وہیں یہ ملکی سالمیت کے اصولوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان ماضی میں بھی ڈرون حملوں کے خلاف شدید احتجاج کرتا رہا ہے اور ملک کے نئے وزیرِاعظم نواز شریف بھی ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔