پاکستان اور چین کے مابین آٹھ منصوبوں پر دستخط

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب لی کی چیانگ سے ملاقات کی ہے۔
پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کے وزیراعظم کے درمیان باضابطہ مذاکرات میں اقتصادی تعاون کے آٹھ منصوبوں پر دستخط ہوئے ہیں۔
چین کی کمپنی پاکستان میں بجلی کی پیداوار کے لیے بندی پور پاور پراجیکٹ پر کام کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔ نندی پور پاور پراجیکٹ سے 450 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔
پاکستان اور چین کے درمیان طویل مدتی میں تجارتی راہداری معاہدہ بھی طے پایا ہے۔ تجارتی راہداری معاہدے کے تحت اٹھارہ ارب ڈالر کی لاگت سے سرنگیں بنائی جائیں گی۔
دونوں ملکوں کے مابین مواصلات کے شعبے میں تعاون پر زور دیا گیا۔ جس کے تحت اسلام آباد سے خنجراب تک فائبر آپٹک کیبل بچھائی جائے گی۔ پاکستان میں مواصلات کا نظام بہتر کرنے کے لیے فائبر آپٹک کیبل کا منصوبہ تین سال میں مکمل ہو گا اور اس پر 44 کروڑ ڈالر لاگت آئی گی۔
چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تکنیکی تعاون کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں پولیو وائرس سے بچاؤ اور گھروں میں استعمال کے لیے شمسی توانائی متعارف کروانے کے منصوبے شامل ہیں۔
چین کے تعاون سے پاکستان میں کئی اقتصادی منصوبوں پر پہلے سے کام ہو رہا ہے۔ ان منصوبوں میں شاہراہ قراقرم کی توسیع و مرمت شامل ہے جبکہ پاکستان نے کچھ ہی عرصہ قبل گوادر کی بندرگار کا انتظام بھی چین کے سپرد کر دیا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف بدھ کو چین کے سرکاری دورے پرروانہ ہوئے تھے۔ چین کے وزیراعظم سے ملاقات سے پہلے نواز شریف نے چین کے صدر سے ملاقات کی تھی۔پاکستان کا وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف نے اپنے پہلے سرکاری دورے کے لیے چین کا انتخاب کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھیں اس دورے کی دعوت چین کے وزیر اعظم لی کی چنانگ نے اس سال مئی میں پاکستان کے دورے کے دوران دی تھی۔ چین کا کہنا ہے کہ تجارتی روابط بڑھانے کے راہداری کا قیام چین کے مفاد میں ہے۔
گزشتہ سال پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی ججم بارہ ارب ڈالر تھا جبکہ آئندہ دو سے تین برسوں میں تجارتی ججم بڑھا کر پندرہ فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔







