’عملدرآمد نہ ہونے کے پیچھے سیاسی عوامل‘

پاکستان کے صوبہ سندھ کے چیف سیکریٹری چوہدری اعجاز کا کہنا ہے کہ صوبے میں پھانسی کے منتظر مجرموں کی سزا پر عملدرآمد نہ ہونے کے پیچھے سیاسی عوامل ہیں۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کو اس وقت کہی جب چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ صوبہ سندھ میں 135 مجرم پھانسی کے منتظر ہیں لیکن سزاپر عمل درآمد نہیں ہوتا۔
چیف سیکریٹری سندھ ہائی کورٹ نے چیف جسٹس سے اتفاق کیا کہ ان کی سزاؤں پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔
یہ اجلاس بدھ کو جسٹس مقبول باقر پر حملے کے بعد طلب کیا گیا تھا، جس میں ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ پولیس اور دیگر اہم پولیس اہلکاروں نے شرکت کی۔
اس موقعے پر جسٹس مشیر عالم نے سرکاری وکلاء کو ہدایت کی کہ وہ ذمہ داری سے اپنے فرائض سرانجام دیں تاکہ مجرمان کو سزا ہو سکے۔ بقول اُن کے سزاؤں پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
انہوں نے ہائی کورٹ، انسداد دہشت گردی کی عدالتوں، سیشن عدالتوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ اس میں تاخیر نہ کی جائے ورنہ جسٹس مقبول باقر پر حملے جیسا اور کوئی واقعہ پیش آ سکتا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ حکومت غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی اور رضاکارانہ طور پر جمع کرانے کی مہلت کا حکم نامہ جلد جاری کرے اور اس پر عملدر آمد کا منصوبہ بھی بنایا جائے۔
سندھ کے چیف سیکریٹری چوہدری اعجاز نے چیف جسٹس مشیر عالم کو بتایا کہ غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کے قانون پر عملدرآمد کے لیے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کو حاصل ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ آئندہ پندرہ روز میں یہ حکم نامہ جاری کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کے قانون کے تحت شہریوں کو ایک مخصوص مدت میں غیر قانونی اسلحہ رضاکارانہ طور پر جمع کرانے کی اجازت دی جائیگی اور ان سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔ مقررہ وقت کے بعد پولیس کارروائی کر سکے گی اور اس میں کوئی رعایت نہیں کی جائےگی۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق آئی جی سندھ پولیس شاہد ندیم بلوچ نے بتایا کہ جسٹس مقبول باقر پر حملے کا سراغ ملا ہے اور یہ عناصر کچی آبادیوں میں موجود ہیں جہاں کارروائی دشوار ہوتی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کچی آبادیوں کو مستقل نہ کیا جائے اور ان علاقے کے لوگوں کے لیے ممبئی اور ملائشیا طرز پر منصوبہ بندی کی جائے۔
آئی جی سندھ پولیس نے انکشاف کیا کہ ریڈ زون میں موجودہ کیمرے غیر فعال ہیں۔ اس پر چیف جسٹس مشیر عالم نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ پولیس کو ابھی تک جی ایس ایم لوکیٹر نظام بھی نہیں دیا گیا۔
چیف سیکریٹری چوہدری اعجاز نے انہیں بتایا کہ اس حوالے سے سمری وزیر اعلیٰ کے پاس موجود ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ یہ جلد منظور کر لی جائے گی۔
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کراچی میں تمام فورسز سگنل کمانڈ اینڈ کنٹرول میں ہونی چاہییں کیونکہ اس وقت ہر ایجنسی اپنے طور پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے کیا پولیس کی کوئی خاص تربیت یافتہ فورس ہے؟ آئی جی سندھ شاہد ندیم نے انہیں بتایا کہ سی آئی ڈی یہ کام کرتی ہے۔
دوسری جانب جسٹس مقبول باقر پر حملے کے خلاف پاکستان بار کونسل کی اپیل پر کراچی، پشاور اور دیگر شہروں میں وکلاء برادری نے جمعرات کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور مطالبہ کیا کہ جسٹس مقبول باقر پر حملہ کرنے والے ملزمان کو قانون کے کٹھرے میں لایا جائے۔







