سابق نگراں وزراء کیلیے اسلحہ لائسنسوں کا اجرا

سابق نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کی جانب سے نگراں کابینہ کے ارکان کو ممنوعہ اور غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس جاری کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

سابق نگراں وزیر داخلہ ملک حبیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ نگراں وزیراعظم نے یہ فیصلہ کابینہ کے ارکان کی درخواست پر کیا۔

اُنہوں نے بتایا کہ کابینہ کے ایک اجلاس میں ارکان کا کہنا تھا کہ اُن کی جان کو خطرات لاحق ہیں اور اُنہیں اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ لائسنس جاری کیے جائیں۔

کابینہ کے چودہ ارکان کو دو غیر ممنوعہ اور ایک ممنوعہ بور کا لائسنس جاری کرنے کے لیے فائل منگل کو وزارتِ داخلہ کو بھجوائی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فائل ایڈیشنل سیکرٹری کو پہنچا دی گئی ہے اور آئندہ چند روز میں اسلحہ لائسنس جاری کر دیے جائیں گے۔

اس وقت ملک میں ہر قسم کے اسلحہ لائسنس کے اجراء پر پابندی عائد ہے تاہم وزیرِاعظم کے پاس یہ صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی اسلحہ لائسنس جاری کر سکتے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق نگراں صوبائی حکومتوں میں شامل متعدد افراد نے اسلحہ لائسنس کے لیے درخواستیں وزارتِ داخلہ کو بھجوائی تھیں تاہم اُن میں سے کسی ایک کو بھی اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔

سابق نگراں وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُنہوں نے اپنا نام اسلحہ لائسنس لینے والے نگراں وزراء کی فہرست میں شامل نہیں کیا کیونکہ ان کے پاس پہلے سے ہی اسلحہ لائسنس موجود ہے۔

نگراں وزیر قانون احمر بلال صوفی کی طرف سے بھی یہ بیان سامنے آیا ہے کہ اُنہوں نے بھی اسلحہ لائسنس لینے سے انکار کردیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی طرف سے وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد نگراں وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان اپنے عہدوں سے سبکدوش ہوگئے ہیں اور سپریم کورٹ نگراں وزیر اعظم کے حکم پر بیورو کریسی میں کیے جانے والے تمام احکامات کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔