ایسے زخموں کا کیا علاج کروں

    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

میں طے نہیں کر پا رہا کہ کون سا دکھ زیادہ بڑا ہے۔ ایک سو گیارہ برس پرانی زیارت ریزیڈنسی کی وفات کا دکھ جہاں بانیِ پاکستان نے اپنا آخری ڈیڑھ ماہ گزارا، یا ان پچیس عورتوں، مردوں اور بچیوں کا دکھ جو اس زمین پر چند برس گزار کے گزر گئے۔ پھر یہ سوچتا ہوں کہ مجھے اور تمھیں کیا حق ہے کسی ایسی عمارت یا ان انسانوں کی موت کا سوگ منانے کا جن سے ہمارا تعلق سوائے بک بک کے کچھ بھی تو نہیں۔

کون سے بابائے قوم اور کون سی وراثت ؟

وہی بابائے قوم نا۔۔۔۔ جن کے تصورِ ریاست و حکومت کو ان کی زندگی میں ہی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا اور خود انھیں بھی ایک آئینی ڈھانچا سمجھ کر اس پرفضا قیدِ تنہائی میں ڈال دیا گیا جہاں ہمشیرہ، ایک ذاتی معالج اور چناروں سے ٹکراتی ہوا کے سوا کوئی نہ تھا۔

وہی جناح نا جس کی تصویر پہلے کرنسی نوٹوں پر چھاپی گئی اور پھر ان نوٹوں سے ضمیر ٹریڈنگ کمپنی کھول لی گئی۔ جناح کیپ بلیک اینڈ وائٹ فلمی دلالوں نے اڑس لی۔ بالآخر اس بے چاری نے بھی قوالوں کے ماتھے پر پناہ حاصل کی۔ ان کی شیروانی بھانت بھانت کے آمروں میں بٹ بٹا گئی۔ ان کے فرمودات تئیس مارچ، چودہ اگست، گیارہ ستمبر اور پچیس دسمبر کے بوسیدہ سرکاری پیغامات اور فرسودہ اخباری ضمیموں کی جیل میں تاحیات قید ہو کر رہ گئے۔

تب سے اب تک کوئی کباڑی جناح کے خوابوں کو نیا پاکستان، کوئی چھابڑی والا انقلابی پاکستان، کوئی کنگلا اسلامی پاکستان اور کوئی دو نمبر یا روشن پاکستان کہہ کر بیچ رہا ہے اور پیٹ پال رہا ہے۔

لانبے، لاغر، گرج دار، اصولی، خوش پوش، قوم پرست، روشن خیال، جمہوریت پسند، حاضر جواب وکیل محمد علی جناح کے ساتھ چھیاسٹھ برس میں جو سلوک ہوا اس کی روشنی میں جناح صاحب کی ایک ایسی پورٹریٹ تیار کرنے کی ضرورت ہے جو موجودہ پاکستان کے صوتی، بصری و سیرتی تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہو۔

کیسی لگے گی ایسی تصویر جس میں محمد علی جناح کا نصف چہرہ باریش اور نصف کلین شیو ہو۔ سر پر آدھی پگڑی اور آدھی پی کیپ ہو۔ انھوں نے آدھی شیروانی اور آدھی بارودی جیکٹ پہن رکھی ہو اور گلے میں ٹائی بھی ہو۔ دائیں ہاتھ میں آئین اور بائیں ہاتھ میں کلاشنکوف، ایک پیر میں کھسہ اور دوسرا پیر ننگا۔۔۔

کیوں نہ موجودہ پاکستان کی اس انیس سالہ بیٹی کی مقدمہ فائل بھی اوریجنل پاکستان کے خالق کی قبر کے تعویذ پر رکھ دی جائے جس کا پانچ برس پہلے اسی مزار کے احاطے میں اسی کے محافظوں کے ہاتھوں ریپ ہوا۔ کاش یہ لڑکی چار معتبر گواہ پیش کرسکتی کیونکہ ڈی این اے رپورٹ کوئی معتبر عدالتی گواہی نہیں ہے۔ لہٰذا فاضل جج نے پانچ برس شنوائی کے بعد تین ملزموں کو مجبوراً بری کردیا۔

یہ مقدمہ اتنا شفاف ہے کہ بیرسٹر جناح صاحب آپ بھی اگر اپنے مزار سے نکل آئیں تب بھی ملزموں کو سزا نہیں ہوسکتی، کیونکہ باقی تین گواہ کہاں سے لائیں گے؟ کچھ اور خواتین کو بھی یہی معاملہ درپیش ہے اس لیے وہ آپ کی طرح چپ ہیں۔۔۔۔

جناح صاحب مجھے قطعاً اندازہ نہیں کہ آپ کے ہوتے ہوئے آپ کی رہائش گاہ کے آس پاس کوئی لڑکی ریپ ہو جاتی یا آپ کو طالبات سے بھری کسی بس کو بم سے اڑا دینے یا پھر ہسپتال میں زخمیوں اور مریضوں کو یرغمال بنانے کی خبر ملتی تو آپ کیا کرتے۔

اگرچہ آپ کا پاکستان نہ اسلام کا قلعہ تھا اور نہ ہی ایٹمی طاقت۔ پھر بھی جنوری اڑتالیس میں کراچی میں چند ہندوؤں کی کچھ املاک کو آگ لگائی گئی تو آپ نے چھ گھنٹے کے اندر انتظامیہ کو الف کر کے رکھ دیا تھا۔ آپ چاہتے تو محض دکھ اور صدمے کا پریس ریلیز جاری کروا کے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کرسکتے تھے۔

جناح صاحب جب آپ زیارت میں آخری گرمیاں گزار رہے تھے تو آپ کی رہائش گاہ دنیا کے دوسرے بڑے صنوبری جنگل سے گھری ہوئی تھی۔ آج یہ جنگل ایک چوتھائی رہ گیا ہے۔آپ کے قدموں کے نشانوں کی عزت بھی اس جنگل کی حفاظت نہ کرپائی۔

جو اسی روز کوئٹہ میں مارے گئے ان کی جگہ اور پیدا ہو جائیں گے۔ آپ کے افکار کے متبادلات بھی آتے جاتے رہیں گے۔ آپ کے پاکستان کے اوپر کبھی کا ایک اور پاکستان بھی بن چکا۔ مگر زیارت ریزیڈنسی۔۔۔۔

ایسے زخموں کا کیا علاج کروں جن کو مرہم سے آگ لگ جائے