’میں نے دیکھا کہ لوگوں کو گولیاں لگ رہی ہیں‘

کوئٹہ میں بس میں دھماکے کے بعد بولان میڈیکل کمپلیکس میں دھماکے اور فائرنگ کے باعث کئی افراد نے پناہ لے کر جان بچائی تو کئی افراد ہسپتال کے اندر محصور ہو گئے۔ چند عینی شاہدین نے بی بی سی سے بات کی۔
ڈاکٹر ابو بکر، بولان میڈیکل کمپلیکس
جب صبح شعبۂ حادثات میں خواتین یونیورسٹی کے زخمیوں کو لے کر آیا تو اچانک ایک خودکش حملہ آور نے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے دھماکہ کیا جس کے بعد پانچ سے چھ مسلح افراد داخل ہوگئے۔ اس کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔ ہم کالج کی جانب باہر بھاگ گئے لیکن ہمارے پروفیسر اندر ہی رہ گئے۔ جب واپس اندر جانے کی کوشش کی تو اندر سے ایک شخص چلایا کہ بھاگ جاؤ ایک اور خودکش حملہ آور آ رہا ہے۔
ہمارے چار پروفیسر محصور ہیں اور ہم ان سے رابطے میں ہیں۔ مسلح افراد بچوں کے وارڈ اور آپریشن تھیٹر کی جانب گئے۔ حملہ آوروں کے پاس کلاشنکوفیں تھی، ایک بڑا بیگ تھا اور ان کی جیبیں گولیوں سے بھری تھیں اور ایک شخص نے اپنی قمیض اٹھائی تو اس نے بارود سے بھری جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔ اب پولیس اور فورسز نے چاروں جانب سے ہسپتال کو گھیرا ہوا ہے۔ اوپر ہیلی کاپٹر بھی گشت کر رہا ہے لیکن دس پندرہ منٹ سے فائرنگ کی آوازیں آنا بند ہوگئی ہیں۔
زین العابدین، زخمی ہونے والے صحافی
ہم بس دھماکے کی کوریج کے لیے بولان میڈیکل کمپلیکس پہنچے۔ جب دھماکہ ہوا تو شکر ہے میں کچھ فاصلے پر تھا۔ دھماکے کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی اور کچھ معلوم نہیں تھا کہ فائرنگ کہاں سے ہو رہی ہے۔ ہم مختلف جگہوں پر چھپ گئے۔ سماء ٹی وی کے کیمرہ مین ظفر بلوچ مجھے نظر نہیں آئے تو میں اس کو دیکھنے کے لیے کھلے میں آیا اور میرے ساتھ دو تین صحافی اور بھی آ گئے۔
میں نے دیکھا کہ چھت پر کچھ افراد تھے۔ معلوم نہیں کہ انہوں نے فائرنگ کی یا دستی بم پھینکا۔ مجھے سپلنٹر لگے اور ران میں گولی لگی۔ حملہ آور بڑے مطمئین لگ رہے تھے۔ سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد کے باوجود وہ آرام سے فائرنگ کیے جا رہے تھے۔
پروفیسر خان بابر، بولان میڈیکل کمپلیکس
میں ہسپتال کے اندر محصور تھا۔ میں گذشتہ چار گھنٹوں سے ایک آپریشن تھیٹر کے اندر بند ہوں۔ میرے ہمراہ تین مزید افراد بھی اسی کمرے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمیں میڈیکل کمپلیکس میں جاری آپریشن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔
خدائے نور ناصر، صحافی
میں نے دھماکے کے بعد یونیورسٹی پہنچا جہاں سی سی پی او زبیر محمود سے بات کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہسپتال پہنچیں وہاں میں آپ سے بات کر لوں گا۔ سارے میڈیا والے بولان میڈیکل کمپلیکس پہنچے۔ وہاں پہنچے تو چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس بھی پہنچے اور ہسپتال میں چلے گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہو گیا۔
چیف سیکریٹری کے جانے کے فوراً بعد شعبہ حادثات کے اندر دھماکہ ہوا اور شدید فائرنگ شروع ہوگئی۔ میں نے پلر کے پیچھے پناہ لی اور میں نے دیکھا کہ ڈپٹی کمشنر کی گولی لگی ہے۔ میں وہاں سے ہٹا اور ایک گاڑی کے پیچھے پناہ لی اور میرے ساتھ ڈی آئی جی آپریشن بھی پناہ لیے ہوئے تھے۔ بعد میں ایک بکتر بند گاڑی آئی اور ڈی آئی جی کو نکال کر لے کر گئے۔ میں نے دیکھا کہ لوگوں کو گولیاں لگ رہی ہیں۔ میرے آس پاس بھی لوگوں کو گولیاں لگیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عبدالقدوس، یونیورسٹی کے بس ڈرائیور
میں بس کے ساتھ کھڑا تھا جب دھماکہ ہوا۔ میں نے دیکھا کہ بس کا دوسرے طرف آگ لگ گئی ہے۔ ہم نے پانچ طالبات کو بس سے نکالا۔ لیکن اس کے بعد آگ نے بس کو لپیٹ میں لے لیا۔ ہم بے بس تھے۔







