کراچی: شیعہ وکیل دو بیٹوں سمیت ہلاک

کراچی میں فرقہ وارانہ بنیاد پر ہلاکتوں کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنکراچی میں فرقہ وارانہ بنیاد پر ہلاکتوں کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں سندھ ہائی کورٹ کے وکیل اپنے دو بیٹوں سمیت ہلاک ہوگئے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔

دریں اثناء کالعدم شدت پسند مذہبی تنظیم لشکر جھنگوی نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

لیاری ٹاؤن کی کلری پولیس کا کہنا ہے کہ کوثر ثقلین اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے جا رہے تھے کہ ماڑی پور روڑ پر مچھر کالونی کے قریب مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر شدید فائرنگ کر دی۔

فائرنگ سے ان کا چودہ سالہ بیٹا عون عباس اور بارہ سالہ اویس عباس موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ کوثر ثقلین شدید زخمی ہوگئے جنہیں سول ہپستال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

کوثر ثقلین سندھ ہائی کورٹ کے سینیئر وکیل اور کراچی بار کونسل کے وکیل تھے، ان کا تعلق چکوال سے تھا، ان کے بیٹے سندھ مدرستہ سکول میں زیر تعلیم تھے جہاں وہ انہیں چھوڑنے جا رہے تھے۔

باپ اور دو بیٹوں کی میتوں کو جب نمائش چورنگی پر لایا گیا تو کچھ لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ایم اے جناح روڑ کو بلاک کر دیا لیکن کچھ دیر بعد سڑک کو کھول دیا گیا۔

اس واقعے کے خلاف سٹی کورٹس میں مکمل اور سندھ ہائی کورٹ میں وکلا نے عدالتی کارروائی کا جزوی بائیکاٹ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے بھی واقعے کا از خود نوٹس لیا ہے اور پولیس حکام سے جواب طلبی کی ہے۔

مجلس وحدت المسلمین کے ترجمان علی احمر کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں سو کے قریب شیعہ افراد کو قتل کیا گیا ہے، جن میں وکلا، ذاکر اور ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ ہلاکتیں شیعہ کمیونٹی کے علاوہ پاکستان کا قومی نقصان بھی ہیں۔

علی احمد کے مطابق مقتول کوثر ثقلین وکالت کے علاوہ مجالس کے ذاکر بھی تھے۔

اس سے پہلے 3 مئی کو ایک حملے میں ایڈووکیٹ احمد جان شدید زخمی اور ان کے بیٹے شکیل احمد جان ہلاک ہوگئے تھے۔

کالعدم شدت پسند مذہبی تنظیم لشکر جھنگوی کے ایک ترجمان علی سفیان نے بی بی سی کو فون کر کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔