انتخابی ریلی میں شیر کے استعمال پر نوٹس

فریال گوہر کے وکیل وقاص میر نے یہ موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اپنے والد کی انتخابی مہم کے لیے ریلیوں کی قیادت کررہی تھیں
،تصویر کا کیپشنفریال گوہر کے وکیل وقاص میر نے یہ موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اپنے والد کی انتخابی مہم کے لیے ریلیوں کی قیادت کررہی تھیں

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف کی انتخابی مہم میں ’زندہ‘ شیر کو ریلیوں میں استعمال کرنے پر جماعت کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

ہائی کورٹ نے محکمہ تحفظ جنگلی حیات سے درآمد کیے جانے والے شیروں کی تفضیلات بھی طلب کرلی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل گرین بنچ نے محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں شیروں کی درآمد کے لیے کتنے لائسنس جاری کیے اور کتنے شیر پاکستان درآمد ہوئے۔

ہائی کورٹ نے یہ حکم اداکارہ اور جانوروں کی حقوق نگراں فریال گوہر کی اس درخواست پر دیا جس میں انتخابی مہم میں زندہ شیر کو استعمال کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔

نامہ نگار عبادالحق کے مطابق مسلم لیگ نون کا انتخابی نشان شیر ہے اور انتخابی کے علاوہ احتجاجی ریلیوں میں زندہ شیر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ نون نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہے۔

فریال گوہر کے وکیل وقاص میر نے یہ موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اپنے والد کی انتخابی مہم کے لیے ریلیوں کی قیادت کررہی تھیں اور ان ریلیوں میں زندہ شیر بھی لایا جاتا تھا۔

وقاص میر ایڈووکیٹ کے مطابق ریلیوں میں زندہ شیر لانے کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا لیکن ان کی کوئی پذیرائی نہیں کی گئی اور نہ محکمہ تحفظ جنگلی حیات نے اس کا کوئی نوٹس لیا۔

فریال گوہر کے وکیل نے یہ اعتراض اٹھایا کہ ریلیوں میں زندہ شیر لانا آئین کے منافی ہے کیونکہ آئین ہر شہری کے جان اور مال کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ریلی میں شیر لانے سے کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوسکتا تھا اور کسی کی جان جاسکتی تھی۔

وکیل نے یہ نکتہ اٹھایا کہ شیر کو زنجیر میں بیٹھا کر ریلی میں لانا بھی جنگلی حیات یا جانوروں کے حقوق کے خلاف ہے۔

وقاص میر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ مریم نواز کی ریلی میں جو شیر لایا جاتا ہے وہ وائٹ ٹائیگر یعنی برفانی شیر ہے اور ایسے نایاب شیر کو گرمی میں ریلی میں لانا اس جانور کے ساتھ زیادتی ہے۔

فریال کے وکیل نے بتایا کہ پاکستان نے اس معاہدے میں دستخط کیے ہیں جس کے تحت نایاب جانور کو کسی کمرشل ( کاروباری) مقصد کے لیے استمعال نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن ایسے جانور کو کرائے پر دیا جاتاہے۔

وکیل کے مطابق برفانی شیر جیسے نایاب جانور کو درآمد کرنے کا لائسنس دیا جاتا ہے لیکن ان کو ایسا ماحول فراہم نہیں کیا جاتاجو ان کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے بقول قاص میر ایڈووکیٹ کے معاہدے اور لائسنس کی خلاف وزری ہے جس کے تحت پاکستان میں نایاب جانور لائے جاتے ہیں۔

فریال گوہر نے عدالت سے یہ استدعا کی کہ شیر جیسے جانور کو عوامی اجتماعات یا ریلیوں پر لانے پر مستقل پابندی لگائی جائے۔

انتخابی مہم کے دوران ’زندہ‘ شیر کو استعمال کرنے کے خلاف درخواست پر اکیس جون کو سماعت ہوگی۔