شیرنی زندہ ہے

سینڈی نامی یہ شیرنی نہ صرف زندہ ہے بلکہ اچھی خاصی صحت مند بھی ہے
،تصویر کا کیپشنسینڈی نامی یہ شیرنی نہ صرف زندہ ہے بلکہ اچھی خاصی صحت مند بھی ہے

مسلم لیگ ن کی طرف سے انتخابی جلسوں اور جلوسوں میں استعمال کی جانے والی شیرنی زندہ ہے، جب کہ بدھ کو میڈیا نے خبر دی تھی کہ وہ مر گئی ہے۔

بعض ٹیلی ویژن چینلوں اور اخبارات نے کہا تھا کہ سفید رنگ کی ’سینڈی‘ نامی شیرنی تھکاوٹ اور پانی کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہو گئی ہے۔

یہ خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اسے بھارت میں بھی نشر کیا گیا۔

لیکن بی بی سی نے شیرنی کو دیکھ کر تصدیق کی ہے کہ وہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ اچھی خاصی صحت مند ہے۔

پاکستان کے جنگلی حیات کے تحفظ کے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ شیرنی زیادہ گرمی کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ایک عہدے دار نے ان اطلاعات کو رد کر دیا کہ شیرنی اب بھی زندہ ہے۔ انھوں نے کہا، ’اگر شیرنی زندہ ہے تو وہ اسے ہمارے ادارے کے پاس کیوں نہیں لاتے یا اس کی تازہ تصاویر کیوں نہیں دکھاتے؟‘

شیرنی کے مالک ادریس احمد ہیں، اور وہ اسے مسلم لیگ ن کے مختلف جلوسوں میں لے کر جاتے ہیں۔ شیرنی ان کی کار کے اوپر بیٹھی رہتی ہے اور لوگ اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں۔ ادریس نے شیرنی کی موت کی خبروں پر برہمی کا اظہار کیا:

’یہ میری اولاد ہے۔ اگر کوئی آپ سے کہے کہ آپ کی اولاد مر گئی ہے تو آپ کیا محسوس کریں گے؟‘

انھوں نے کہا کہ انھوں نے پوری کوشش کی کہ شیرنی کی موت کے بارے میں میڈیا پر آنے والی خبروں کو غلط ثابت کیا جائے لیکن ابھی تک اس میں کامیابی نہیں ہوئی:

’ہر کوئی کہہ رہا ہے، فکر مت کرو۔ تم مشہور ہو رہے ہو! لیکن میں اپنی اولاد کی موت کی خبروں کے سہارے پر کیسے مشہور ہونا چاہوں گا؟‘

ادریس احمد کا فارم ہاؤس لاہور کے مضافات میں واقع ہے، جہاں سینڈی کو ایک ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں رکھا جاتا ہے۔

انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ کھلی ہوئی شیرنی کو انتخابی جلوسوں میں لے کر جانا ٹھیک نہیں ہے۔ انھوں نے کہا، ’یہ کاٹتی نہیں ہے۔‘