تبدیلی کی خواہش

شہر کے چند دیگر علاقوں کی طرح ڈفینس کے پولنگ سٹیشنز پر بھی لوگوں کی غیر معمولی موجودگی رہی
،تصویر کا کیپشنشہر کے چند دیگر علاقوں کی طرح ڈفینس کے پولنگ سٹیشنز پر بھی لوگوں کی غیر معمولی موجودگی رہی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے’ڈیفنس کے زیادہ تر لوگ انتخابات کے دن گھروں تک محدود رہتے ہیں‘ لیکن یہ افسانہ سنیچر کو ہونے والے انتخابات میں غلط ثابت ہوا۔

شہر کے چند دیگر علاقوں کی طرح ڈیفنس کے پولنگ سٹیشنز پر بھی لوگوں کی غیر معمولی موجودگی رہی، جو اس سے پہلے کسی انتخاب میں نظر نہیں آئی۔

کیا مرد، کیا عورت، کیا جوان تو کیا برزگ، معذور افراد بھی ووٹ دینے کے لیے موجود تھے۔ شہر کے کئی حلقوں اور علاقوں کی تاک جھانک کے بعد جب دوپہر تین بجے زم ذمہ گرلز ڈگری کالج کے پولنگ سٹیشن پہنچے تو ووٹروں کی ایک بڑی قطار نظر آئی، یہ منظر صبح سے کسی اور علاقے میں نظر نہیں آیا تھا۔

عمارت کے اندر داخل ہوئے تو ایسا محسوس ہوا جیسے کسی فلم کا وقفہ ہوا ہو۔ بڑی تعداد میں لوگ گیلری میں ٹہل رہے تھے تو ایک گروہ زمین پر بیٹھ کر سنیکس اور کولڈ ڈرنک کا مزا لے رہے تھے ۔

عام تصور تو یہ ہے کہ نظام کی تبدیلی کا خواب مڈل کلاس اور لوئر کلاس دیکھتی ہے لیکن آج ائر کنڈیشن کمروں کو چھوڑ کر اس طبقے نے تبدیلی کے اس عمل میں شامل ہونے کی کوشش کی ہے۔

اسما زندانی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جو تبدیلی کا نعرہ دیا ہے وہ اس وجہ سے ووٹ دینے آئیں ہیں اور وہ آج ووٹ دے کر جائیں گی۔

ماڈل نادیہ حسین کتنی بار ووٹ دے چکی ہیں یہ تو معلوم نہیں لیکن آج وہ دوسری خواتین کے ساتھ قطار میں اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں۔ سنہ 1978 میں ہاکی کا عالمی کپ جیتنے والے کپتان اصلاح الدین اور اداکار اور ماڈل ہمایوں سعید بھی واضح طور پر پہچانے جا سکتے تھے۔

پولنگ سٹیشن پر لوگ صبح سویرے ہی پہنچ گئے تھے لیکن انتخابی عمل تاخیر سے شروع کیا گیا جس کی وجہ غیر تربیت یافتہ عملہ اور سامان کی قلت بتایا گیا۔ تاخیر کی وجہ سے عمارت کے باہر دھوپ میں کھڑے ہوئے مردوں کی تعداد تو کم ہوگئی لیکن خواتین کی اکثریت جمی رہی جو تقریباً سب ہی تحریکِ انصاف کی حمایتی تھیں۔

فرح منیر صبح آئی تھیں لیکن دوپہر تین بجے تک ان کی ووٹ دینے کی باری نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو خواتین بچوں کے ساتھ آئی تھیں وہ پریشان ہو کر واپس جا چکی ہیں۔

ماڈل نادیہ حسین ووٹ دینے کے لیے دوسری خواتین کے ساتھ قطار میں اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں
،تصویر کا کیپشنماڈل نادیہ حسین ووٹ دینے کے لیے دوسری خواتین کے ساتھ قطار میں اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں

ووٹروں نے شکایت کی کہ الیکشن کمیشن یہ خود کہتا رہا ہے کہ ٹرن آؤٹ بڑھے گا تو پھر سٹاف کیوں نہیں بڑھایا گیا جبکہ سٹاف کا کہنا تھا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہاں اتنے لوگ آئیں گے۔

سمارٹ فونز سے لیس کئی نوجوانوں نے ٹوئٹر اور دوسری سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس مایوسی کا اظہار کیا۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یہ تاخیر جان بوجھ کر کی جا رہی تھی تاکہ تحریکِ انصاف کے امیدوار کو کم ووٹ ملیں۔ بعد میں یہ اطلاعات آئیں کہ 40 سے زائد پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخابات ہوں گے۔

الیکشن کمیشن نے آخر ان لوگوں کی سن لی اور پولنگ کا وقت پانچ بجے سے بڑھا کر آٹھ بجے تک کر دیا۔ اس وقت تک سورج کی تپش بھی کم ہوچکی تھی اور وہ لوگ جو گھروں کو لوٹ گئے تھے واپس پولنگ سٹیشن تک پہنچ گئے۔

اسی حلقے کی ایک اور پولنگ سٹیشن حیدری پبلک سکول میں موجود ایک طالبہ شہزادی نورین سے میں نے پوچھا کہ وہ ووٹ کس کو دیں گی تو انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کا نام لیا۔ بقول ان کے وہ انہیں آزما چکے ہیں، عمران خان کو کبھی آزمایا نہیں گیا اس لیے وہ رسک نہیں لے سکتیں۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اور متحدہ قومی موومنٹ نے انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے کے خلاف بات کرنے سے احتیاط برتی تھی لیکن آج دونوں جانب سے دھاندلی کے الزامات سامنے آتے رہے۔