ڈرون:’معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے‘

پشاور ہائی کورٹ نے امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ سے کہا ہے کہ اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کے خلاف مقدمے کا فیصلہ جمعرات کو سنایا گیا۔
امریکی سی آئی اے کے ڈرون حملوں کے خلاف درخواست ایک وکیل ایف ایم صابر نے جمع کرائی تھی جس میں انھوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ڈرون حلے غیر قانونی اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں۔
انھوں نے درخواست میں کہا تھا کہ ان ڈرون حملوں میں بےگناہ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ دوست محمد خان اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرون حملے نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہیں بلکہ یہ جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ اس بارے میں ٹربیونل قائم کرے۔
چیف جسٹس نے وزارتِ خارجہ سے کہا ہے کہ ان ڈرون حملوں کے خلاف اقوامِ متحدہ میں باقاعدہ قرار داد جمع کروائی جائے اور اگر اقوامِ متحدہ میں اس قرار داد کو ویٹو کیا جاتا ہے تو اس صورت میں امریکہ سے تعلقات ختم کیے جائیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر قرار داد کے بعد بھی ڈرون حملے جاری رہتے ہیں تو پھر پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ اگر یہ جاسوسں طیارے ان کی سرحد میں داخل ہوں تو ان کے خلاف کارروائی کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیف جسٹس نے کہا کہ ان ڈرون حملوں میں بڑی تعداد میں بے گناہ افراد جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں ہلاک ہو چکے ہیں اس لیے حکومت ان فراد کو معاوضہ ادا کرے۔
پاکستان ماضی میں بھی وہ کئی بار باضابطہ طور پر امریکہ سے ڈرون حملوں پر احتجاج کر چکا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون حملے ملکی خودمختاری کے خلاف ہیں جبکہ امریکہ کہتا ہے کہ حملے شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں ایک موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں اور ان کا قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے۔







