انتخابات پاکستانی نژاد برطانویوں کی نظر میں

سنیچر کو ہونے والے انتخابات میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کو اس سال بیرون ملک میں ووٹ ڈالنے کی سہولت حاصل نہیں
،تصویر کا کیپشنسنیچر کو ہونے والے انتخابات میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کو اس سال بیرون ملک میں ووٹ ڈالنے کی سہولت حاصل نہیں

پاکستان میں سنیچر کو ہونے والے عام انتخابات کو تاریخ ساز قرار دیا جا رہا ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں، مثلاً پہلی بار ایک جمہوری حکومت نے پانچ سال اقتدار میں پورے کیے ہیں اور دوسرا یہ کہ پاکستان کی کُل آبادی میں سے 60 فیصد نوجوان ایسے ہیں جو پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کا ووٹ ان انتخابات میں نہایت اہم ہو گا۔ پاکستانی تاریخ کے یہ سب سے زیادہ پرتشدد انتخابات جہاں عوام کے لیے خوف کا باعث ہیں وہیں ان کے جمہوری عمل پر یقین کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد شہریوں میں پاکستان میں ہونے والے ان انتخابات کے حوالے سے ملا جْلا ردِ عمل پایا جاتا ہے۔

برطانیہ میں گذشتہ 22 سال سے مقیم ناصر رانجھا نے کہا ’یہ اپنے عزائم کے حصول کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ تشدد اور دہشت پھیلانے والے لوگوں کے لیے جمہوریت کا فروغ بہترین جواب ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر اس دور میں کوئی ایسی قوم ہے جس نے جمہوریت کو صحیح معنوں میں حاصل کیا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ ہم بم دھماکوں کے باوجود اپنا ووٹ کا بنیادی حق استعمال کر رہے ہیں۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔‘

اگر ایک طرف برطانیہ میں پاکستانی نژاد شہری ان انتخابات میں کچھ خاص دلچسپی نہیں رکھتے اور ان کی چوتھی نسل زیادہ تر پاکستانی سیاست سے لاتعلق ہیں لیکن دوسری طرف وہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری جو پاکستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جنھیں اس سال بیرونی ملک سے ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں، وہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے خود پاکستان جا رہے ہیں۔

جو لوگ صرف ووٹ ڈالنے کے لیے ہزاروں میل کا سفر کر رہے ہیں وہ دراصل اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ رہتے تو برطانیہ میں ہیں لیکن انھیں پھر بھی پاکستان کی فکر ہے۔

پاکستانی نژاد برطانوی شہری طاہر حبیب کا کہنا ہے کہ ’صرف معاشی اصلاحات سے ہی ہم نوکریاں پیدا کر سکتے ہیں، زندگی کا معیار بہتر کر سکتے ہیں، تعلیم کو فروغ دے سکتے ہیں اور غربت کو ختم کر کے طالبان کو شکست دے سکتے ہیں۔ طالبان سیاستدانوں کے کھوکلے وعدوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کو اس کٹھن دور سے نکلنا ہو گا اور ایسے سیاست دانوں کو ووٹ دینا ہو گا جو پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کر سکیں۔‘

پاکستانی نژاد برطانوی شہری اکبر نے کہا کہ اگر موقع ملے تو وہ اعتدال پسند سیاستدان کو ووٹ دیں گے۔ وہ کہتے ہیں ’میں خوش ہوں کہ آج پاکستان کے صدر آصف علی زداری نے بیرونِ ملک پاکستانی نژاد افراد کو ووٹ کا حق دینے کے آرٹیننس پر دستخط کیے ہیں۔‘

گو ان انتخابات میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کو اس سال بیرون ملک میں ووٹ ڈالنے کی سہولت حاصل نہیں مگر ان کا ووٹ آئندہ انتخابات میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔