جھل مگسی میں فائرنگ، آزاد امیدوار ہلاک

بلوچستان میں اس سے پہلے بھی سیاسی سرگرمیوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے
،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں اس سے پہلے بھی سیاسی سرگرمیوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں صوبائی اسمبلی کی نشست سے امیدوار عبدالفتح مگسی سمیت تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ امیدوار کی ہلاکت کے باعث صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی 32 پر انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سعید عمرانی نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ منگل کی صبح جھل مگسی ٹاؤن کے قریب پیش آیا۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ عبدالفتح اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں جا رہے تھے کہ جھل مگسی کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے عبدالفتح سمیت تین افراد کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا۔

ابھی تک اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

چند روز پہلے ہی قومی اسمبلی کی نشست این اے 267 کچھی- جھل مگسی سے امیدوار عبدالرحیم رند اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار عبدالفتح نے ایک مشترکہ پریس کانفرس میں علاقے کی انتظامیہ کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس پریس کانفرس میں دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بااثر شخصیات کی جانب سے انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں اور ان دھمکیوں کے بارے میں انہوں نے الیکشن کمیشن کو بھی آگاہ کیا ہے۔

جھل مگسی کا شمار صوبے کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جو عسکریت پسند تنظیموں کی کارروائیوں سے متاثر نہیں ہوئے۔

جھل مگسی گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کا آبائی علاقہ ہے اور جھل مگسی سے صوبائی اسمبلی کی نشست سے ان کے بھائی نوابزادہ طارق مگسی امیدوار ہیں۔

اس نشست سے نواب ذوالفقار مگسی اور ان کے خاندان کے دوسرے افراد منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔

صوبائی الیکشن کمشنر سلطان بایزید نے بی بی سی کو بتایاکہ الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق اس نشست پر انتخابات ملتوی ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریٹرننگ افسر کی جانب سے امیدوار کی وفات کا نوٹیفیکیشن جاری کیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن انتخابات ملتوی کرنے کا علان کرتا ہے۔