’وکلا بریگیڈ‘ کو جنرل مشرف کے حامیوں کی تلاش

جمعے کے روز راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیشی کے بعد سابق فوجی حکمران خیر وعافیت سے اپنے گھر واپس پہنچ گئے اور کمرہ عدالت کے باہر امن وامان کی صورت حال خراب نہیں ہوئی۔
کمرہ عدالت کے بعد پرامن حالات کی وجہ سے وکلا کا ایک گروہ ناخوش دکھائی دے رہا تھا۔
سابق فوجی صدر کی انسدد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے موقع ایسے افراد جنہوں نے وکلا کا یونیفارم پہنا ہوا تھا کافی متحرک دکھائی دے رہے تھے اور وہ بار بار اُن گاڑیوں کی طرف جا رہے تھے اور اُن افراد کو تلاش کرر ہے تھے جو پرویز مشرف کے ساتھ آئے تھے لیکن اُنہیں اس ضمن میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔
پرویز مشرف کے ساتھ آنے والی ہر ایک گاڑی کے اندر رینجرز کا ایک مسلح اہلکار موجود تھا جنہیں دیکھ کر وکلا واپس آگئے۔پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے کارکن بھی آج اپنے لیڈر کی عدالت میں پیشی کے موقع پر کچہری میں موجود نہیں تھے۔
کچہری کے احاطے میں کھڑی گاڑیوں میں بیس بال کے بیٹ دیکھے جا سکتے تھے۔

23 اپریل کو سابق آرمی چیف پرویز مشرف کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیشی کے بعد وکلاء اور پرویز مشرف کے ’حامیوں‘ کے مابین شدید لڑائی ہوئی تھی جس میں پرویز مشرف کے ’حامیوں‘ کا پلڑا بھاری رہا تھا اور اُنہوں نے متعدد وکلا کو جن میں سے اکثریت کا تعلق ’وکلاء بریگیڈ‘ سے تھا، کو شدید زخمی کیا تھا۔ اس بریگیڈ نے وقوعہ کے روز اس کا بدلہ لینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
آج کی پیشی کے موقع پر وکلاء بریگیڈ کا اضطراب دیدنی تھا اور وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ ’اج مشرف دا کوئی سپورٹر ہتھے ہی نہیں چڑیا‘۔
مشرف کی پیشی کے موقع پر جہاں پر پولیس نے ضلع کچہری میں آنے والی تمام گاڑیوں کو چیک کیا تو دوسری طرف اُن وکلا کی گاڑیوں کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی جن میں بیس بال کے بیٹ اور پتھر موجود تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہاں پر موجود میڈیا کے کچھ لوگوں نے پولیس اہلکاروں کی توجہ اس جانب سے بھی مبذول کروائی لیکن حکام نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا شاید پولیس والے بھی خوف زدہ تھے کہ چونکہ وکلا کے ہتھے پرویز مشرف کے حامی تو نہیں چڑھے یہ نہ ہو کہ وکلاء پولیس کے ساتھ ہی اُلجھ پڑیں۔
دوسری جانب ملزم پرویز مشرف کو جب پیشی کے لیے چک شہزاد میں واقع اُن کی رہائش گاہ سے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں لایا گیا تو پولیس نے سڑک پر ٹریفک رکوا دی جس سڑک سے پرویز مشرف کی گاڑی اور کارواں میں موجود سیکورٹی کی دیگرگاڑیاں گُزر رہیں تھیں۔ جس میں پچاس کے قریب پولیس اور رینجرز کے اہلکار سوار تھے۔ ٹریفک روکنے کی وجہ سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ٹریفک میں پھنسے ہوئے لوگ پرویز مشرف کا پروٹوکول دیکھ کر یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ’ملزم ہو تو ایسا ہو ورنہ نہ ہو‘۔ اسی صورت حال سے لوگوں کو دوبارہ گُزرنا پڑا جب ملزم پرویز مشرف کو واپس سب جیل لایا جارہا تھا۔







