’مذہبی، دائیں بازو کی جماعتیں آرٹیکل 62، 63 کو چھیڑنے کی مخالف تھیں‘

پاکستان میں گیارہ مئی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے تناظر میں آئین کی دو شقوں باسٹھ اور تریسٹھ پر ایک مرتبہ پھر بحث چھڑ گئی ہے اور گزشتہ حکومت میں پارلیمان کا حصہ بننے والے سیاستدانوں کو ان میں ترمیم نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان کے آئین کی شق باسٹھ پارلیمان کی رکنیت کی اہلیت اور تریسٹھ نااہلی سے متعلق شرائط کے بارے میں ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے لیے تشکیل دی گئی آئینی اصلاحات کمیٹی میں موجود مذہبی اور دائیں بازو کی جماعتوں نے ان دونوں شقوں کو چھیڑنے کی سخت مخالفت کی تھی۔
<link type="page"><caption> اٹھارویں ترمیم کی اہم تجاویز</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2010/04/100402_amendment_pakistan.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> اٹھارہویں ترمیم پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/04/100415_senate_18th_amendment.shtml" platform="highweb"/></link>
بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے رضا ربانی کا کہنا ہے کہ فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں آئین کا حصہ بننے والی یہ دونوں شقیں وہ تلواریں ہیں جو سیاست دانوں کے سر پر لٹک رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان دو شقوں پر پارلیمانی کمیٹی میں بہت تفصیل سے بات ہوئی اور ایک بار نہیں کئی بار ہوئی۔
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک مجھے یاد ہے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر ایک بار نہیں دو تین بار بات ہوئی۔ لیکن کمیٹی میں مذہبی جماعتوں کا رویہ اس کے بارے میں بہت سخت تھا اور وہ اس بات کے حق میں نہیں تھے کہ اس کو تبدیل کیا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں کے علاوہ کمیٹی میں موجود دائیں بازو کی جماعتوں کا بھی مؤقف تھا کہ ان دو شقوں کو ابھی نہ چھیڑا جائے کیوں کہ یہ موزوں وقت نہیں ہے۔ رضا ربانی کے مطابق ’ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاستدانوں اور بدعنوانی کے حوالے سے بلاوجہ کی بحث جاری ہے اور اس وقت صادق اور امین والی شقیں نکالنا صحیح نہیں ہے۔‘
رضا ربانی نے کہا کہ کمیٹی میں بارہا اس بات کی جانب توجہ دلائی گئی کہ آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ میں مبہم الفاظ اور اصلاحات استعمال کی گئی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا ’کمیٹی میں کہا گیا کہ پاکستان کے آئین میں بھی صادق اور امین کی تشریح نہیں ہے اور ملک میں دو سے تین لوگ بھی صادق اور امین کی ایک تشریح پر متفق نہیں ہو سکیں گے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ ترامیم جلدی میں منظور کرائی گئی ہیں اس لیے ان زیادہ وقت صرف نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا ’میں صرف اتنا کہوں گا ان شقوں میں الفاظ کے مبہم ہونے پر بحث کی گئی تھی۔‘
رضا ربانی نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ کن جماعتوں نے ان دو شقوں کو نکالنے کی مخالفت کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں اس وقت بات نہیں کریں گے کیونکہ کمیٹی کا کارروائی ان کیمرہ تھی: ’میں نے آپ کو بتا دیا ہے کہ کمیٹی میں موجود مذہبی اور دائیں بازو کی جماعتیں اس بات کے حق میں نہیں تھی کہ ان دو شقوں کو چھیڑا جائے۔‘
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کو امید ہے کہ اگلی پارلیمان ان دو شقوں کے حوالے سے متفق ہو جائے گی۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی نے آٹھ اپریل 2010 کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کی ایک سو دو شقوں کی متفقہ طور پر منظوری دی تھی۔
ان شقوں میں سترہویں ترمیم کا خاتمہ، اٹھاون ٹو بی کا خاتمہ، پختونخواہ کی منظوری، کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ، مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری کا اختیار وزیر اعظم کو منتقل کرنے جیسی ترامیم شامل ہیں۔







