عدالتی فیصلے پر علمدرآمد یقینی بنائیں: الیکشن کمیشن

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے ملک بھر کے ریٹرننگ آفیسرز کو احکامات جاری کیے ہیں کہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران امیدواروں سے غیر ضروری سوالات نہ پوچھیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنرز کو خطوط ارسال کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے عبوری فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
یاد رہے کہ جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ انتخابی امیدواروں سے غیر ضروری سوالات نہ کریں اور ٹی وی چینلوں کو کمرہ عدالت سے براہ راست کوریج کی اجازت نہ دیں۔
ہائی کورٹ نے یہ حکم آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور ترسٹھ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔
<link type="page"><caption> ’امید ہے ریٹرننگ افسران ہوش کے ناخن لیں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/04/130405_abid_saqi_online_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’کاغذات نامزدگی کے نام پر ڈرامہ رچایا جا رہا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/04/130405_hrcp_elections_press_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے پنجاب بھر کے ریٹرننگ افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ امیدواروں سے کاغذات کی جانچ پڑتال کے دوران غیر متعلقہ سوالات مت پوچھیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اس بات کا سخت نوٹس لیا کہ ریٹرننگ افسران امیدواروں سے غیر ضروری اور غیر متعلقہ سوال پوچھے جا رہے ہیں۔ہائی کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے قرار دیا کہ غیر متعلقہ باتوں اور اس طرح کے اقدامات سے عدلیہ کے تاثر خراب ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے ہدایت کی کہ ریٹرننگ آفیسرز امیدواروں سے ایسے کوئی سوالات نہ پوچھیں جن کا کاغذات نامزدگی میں فراہم کردہ معلومات یا پھر امیدواروں پر لگائے جانے والے اعتراضات سے کوئی تعلق نہ ہو۔
جسٹس سید منصور علی شاہ نے الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ آفیسرز کو یہ حکم بھی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کو کاغذات نامزدگی کے دوران ہونے والی عدالتی کارروائی کمرہ عدالت کے اندر سے نشر کرنے کی اجازت نہ دی جائے
التبہ ہائی کورٹ نے فیصلے میں یہ واضح ہدایت کی ہے کہ صحافیوں کے کاغذات نامزدگی کے رپورٹنگ کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے قرار دیا کہ ان احکامات کا مقصد عدلیہ کے امیج کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کویقینی بنانا ہے کہ ملک میں غیر جابندارنہ اور شفاف انتخابات ہوں نہ کہ سیاست دانوں کے خلاف کارروائی یا ان کی تحقیر کرنا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار کو حکم دیا کہ وہ عدالتی احکامات پر فوری اور بلاتاخیر عمل درآمد کو یقنی بنایا جائے تاکہ بدقستمی سے عدلیہ کے بارے میں جو منفی تاثر پیدا ہوا ہے اس کو فوری زائل کیا جائے۔
اس سے پہلے سماعت کے دوران درخواست گزار منیر احمد کے وکلا اظہر صدیق نے یہ اعتراض اٹھایا کہ ریٹرننگ افسران امیدواروں سے قرضے، نادہندگی ، ٹیکس کی ادائیگی، دوہری شہریت اور جعلی ڈگریوں کے بارے سوالات کرنے کے بجائے غیر ضروری سوال کر رہے ہیں ۔
وکیل کے مطابق امیدواروں سے ان کی بیوی بچوں کے بارے سوالات کے علاوہ دیگر غیر متعلقہ اورغیر ضروری سوالات پوچھ رہے ہیں جن کا کوئی مقصد نہیں ہے۔
عدالت نے عبوری فیصلہ کرنے سے پہلے لاہور ہائی کورٹ بار ایسویشن کے صدر عابد ساقی کا موقف بھی سنا۔







