’صادق اور امین نمائندوں کا انتخاب‘

الیکشن کمیشن کے جانب سے دو دن کے توسیع کے بعد انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا مرحلہ تو مکمل ہو چکا ہے۔
اس مرتبہ الیکشن کمیشن نے نامزدگی کے فارم میں تبدیلیاں کیں جن کے تحت امیدواروں کو نئے اور تفصیلی فارم بھرنا پڑے۔
فارم میں تبدیلیوں کا مقصد آئین کے آرٹیکلز باسٹھ اور تریسٹھ کے مطابق ’صادق اور امین‘ نمائندوں کے انتخاب کو یقینی بنانا ہے۔
ڈاکٹر سامعہ امجد نے خواتین کی مخصوص نشست کے لیے مسلم لیگ ق کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔
کاعذات جمع کروانے کے لیے آٹھ روزکا وقت دیا گیا لیکن وہ کئی ہفتوں سے اس کے لیے تیاری کر رہی تھیں۔
’اس مرتبہ فارم میں قانونی پیچدگیاں زیادہ تھیں۔ایسا لگتا تھا کہ فارم الیکشن کمیشن نہیں بلکہ نیب کا ہے۔محکمانہ تفصیلات کے لیے زیادہ وقت درکار تھا۔ محکمے بھی بہت سے تھے۔ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن یوٹیلیٹی بلز آپ کی ڈگریاں اور جائیدادیں بھی تھیں یہ کافی لمبا مرحلہ تھا۔ زیادہ تر امیدواروں نے فارم وکلاء سے بھروائے کیونکہ ہم اس کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ کوئی چھوٹی سی بھی غلطی رہ جائے جس سے کاعذ مسترد ہو جائیں۔‘
الیکشن کمیشن نے نئے فارم میں جو تبدیلیاں کی ان کے تحت اس مرتبہ امیدواروں کو اپنے ٹیکس، اثاثوں اور خاندان سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنا پڑیں۔ جبکہ پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ جاری کرنے کے فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے بھی امیدواروں کو دباؤ کا سامنا رہا۔
مبصرین کے مطابق سیاسی پارٹیاں بھی رائے عامہ کو سامنے رکھتے ہوئے اس بار ٹکٹ جاری کرتے ہوئے محتاط دکھائی دے رہی ہیں اور پچھلی مرتبہ جعلی ڈگری کی شکایات منظرعام پر آنے کے بعد الیکشن کمیشن بھی بہت سنجیدگی سے امیدواروں کی معلومات کی جانچ پڑتال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

سیاسی تجزیہ نگار مجاہد منصوری کہتے ہیں کہ ’الیکشن کمیشن کا جو رویہ اب تک دیکھنے میں آ رہا ہے اس کے مطابق تو اب تک وہ بہت محتاط دکھائی دے رہا ہے تاکہ معیاری سے معیاری امیدوار جو آئین کی شق باسٹھ اور تریسیٹھ پر پورا اترتے ہوں وہ ہی منتخب ہو سکیں‘۔
’لیکن اس میں ٹائم فریم کی وجہ سے عملی مشکلات آ سکتی ہیں یہ بھی ایک چیلنج ہوگا۔ایسی صورتحال میں عوامی اعتماد کو بحال رکھنا کاعذات نامزدگی میں درج معلومات کی درست طریقے سے جانچ پڑتال کرنا اس سب کو یقینی بنانا ہوگا‘۔
لیکن سوال یہ ہے کہ سات روز کے اندر امیدواروں کی تفصیلات کی تصدیق کس حد تک ممکن ہو سکے گی اور اگر فراہم کی گئی معلومات کی تصدیق ہی نہ ہو سکی تو آئین میں عوامی نمائندگی کے لیے طے کی گئی شرائط کیسے پوری ہو سکیں گی۔
انتخابات کے عمل کی نگرانی کرنے والی تنظیم پلڈاٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ کاغذات کی جانچ پڑتال کے لیے ایک ہفتے کا وقت ناکافی ہے۔
’الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لیے دو ہفتے کا وقت مانگا تھا جو ایک قانون میں ترمیم کے ذریعے دیا جا سکتا تھا۔ لیکن حکومت نے ترمیم نہیں کی۔ میرا یہ خیال تھا کہ الیکشن کمیشن اس پر اصرار کرے گا اور نگران حکومت سے کہے گا کہ وہ ایک آرڈیننس کے ذریعے قانون میں ترمیم کرے اور دو ہفتے کا وقت دے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے ایسا نہیں کیا‘۔
تاہم انتخابات کے عمل کی نگرانی کرنے والے اداروں نے نئے فارم پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اسے انتخابی عمل کو شفاف بنانے کی ایک کوشیش قرار دیا ہے۔
احمد بلال محبوب کے مطابق’ہمیں صرف دو نئی شقوں پر اعتراض تھا۔ ایک جس میں امیدوار سے یہ پوچھا گیا ہے کہ اس نے اپنے حلقے کے لیے کیا نمایاں کام کیا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امیدواروں کا کام حلقے نہیں بلکہ ملک کے لیےکام کرنا ہے جبکہ دوسری وہ شق جس میں امیدواروں سے خیرات میں دی گئی رقم کی تفصیل پوچھی گئی ہے‘۔
لیکن مجموعی طور پر مبصرین نے کاغذات نامزدگی میں ہونے والی تبدیلیوں کو خوش آئند اور شفافیت کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے ۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ انتخابی مہم پارٹیوں کی سطح پر ہی چلائی جا رہی ہے تاہم امیدوار اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے بے قرار ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ انفرادی طور پر انتخابی مہم کا اصل رنگ کاغذات نامزدگی کی منظوری کے بعد ہی جمے گا۔
یہی وجہ ہے کہ مشکلات اور وقت کی کمی کے باوجود ڈاکٹر سامعہ امجد کی طرح الیکشن میں حصہ لینے کے خواہشمندوں نے بروقت اور درست کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی کوششیں کی ہیں۔







