کیا آپ ’ہنی مون‘ پر یقین رکھتے ہیں؟

پاکستان میں گیارہ مئی کے عام انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران ریٹرننگ افسروں کی جانب سے امیدواروں کی ذاتی زندگی کے بارے میں سوالات پوچھے جانے کے واقعات پر ملک میں بحث شروع ہوگئی ہے اور میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں جگہ اس پر تنقید ہو رہی ہے۔
انسانی حقوق کے کمیشن نے اسے ملک میں ملائیت مسلط کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے نام پر ایک ڈرامہ رچایا جا رہا ہے اور انتخابی امور کا بندوبست کرنے والوں نے لوگوں کو غیر متعلقہ اور غیر ضروری معاملات میں الجھا دیا ہے۔
جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ نے ریٹرننگ افسران کو امیدواروں کی ذاتی زندگی کے بارے میں سوالات پوچھنے سے روک دیا ہے اور سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ریٹرننگ افسروں کے مضحکہ خیز سوالات کی وجہ سے عوام کی نظر میں عدلیہ کی تضحیک ہوئی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں صوبہ پنجاب میں ریٹرننگ افسروں کے پوچھے گئے سوالات میں سے جن دس سوالات کا ذکر کیا ہے ان کی نوعیت ہی اس عمل کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔
ان سوالات میں جہاں شادی شدہ امیدواروں سے ان کی بیویوں کی تعداد اور ان کے ساتھ گزارے جانے والے وقت کے بارے میں استفسار کیا گیا ہے وہیں ایک امیدوار کو یہ بتانا پڑا کہ آیا وہ ’ہنی مون‘ پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں۔
ریٹرننگ افسران کو اس امر میں بھی دلچسپی رہی کہ کیا امیدوار زندگی میں کبھی لڑکیوں کے کالج کے سامنے کھڑا ہوا یا کبھی اس نے ’سنسرڈ‘ فلم دیکھی یا نہیں۔
ایک امیدوار سے تو یہ ’ملٹی پل چوائس‘ سوال بھی پوچھا گیا کہ اگر دریا میں اس کا بیٹا، بیوی اور ایک عظیم مذہبی عالم ڈوب رہے ہوں اور ان میں سے کسی ایک کو بچانا ممکن ہو تو وہ کسے بچائیں گے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دین کے بارے میں سوالات میں کلمے سننے کی باتیں تو مقامی میڈیا میں کئی دن سے گردش میں ہیں لیکن اب عدالتی فیصلے سے معلوم چلتا ہے کہ امیدواروں کو یہ بھی بتانا پڑا کہ ’شادی شدہ مسلمانوں پر غسل کب لازم ہوتا ہے؟‘ اور ’ کیا آپ کا مناسب انداز میں ختنہ ہوا ہے؟‘
صرف یہی نہیں بلکہ ’کیا کبھی آپ نے سور کا گوشت کھایا ہے؟‘ اور ’اگر آپ صحرا میں پیاسے مر رہے ہوں اور شراب کی بوتل ملے تو پی لیں گے؟‘ جیسے سوالات کا ذکر بھی عدالتی فیصلے میں کیا گیا ہے۔
مرد امیدواروں سے سوالات میں جہاں ان کی بیویوں کی تعداد کا ذکر ہوا تو ایک خاتون سے پوچھا گیا کہ اگر وہ الیکشن جیت گئیں تو کیا اس سے ان کے شوہر اور بچوں کی زندگی متاثر نہیں ہوگی؟
پنجاب کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں میں اس طرح کے عجیب سوالات امیدواروں سے پوچھے جاتے رہے۔
سندھ میں کچھ ریٹرننگ افسران نے کسی امیدوار سے دعائے قنوت سنانے کی فرمائش کی تو کسی سے دوسرا اور تیسرا کلمہ سنانے کو کہا۔ کسی امیدوار سے قومی ترانہ سنانے کو کہا گیا تو کسی سے فجر یا عشاء کی نماز کی رکعتوں کی تفصیل پوچھی گئی۔
کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خوف سے کسی امیدوار نے ریٹرننگ افسر سے یہ نہیں کہا کہ وہ غیر متعلقہ سوالات کیوں پوچھ رہے ہیں ماسوائے علی احمد کرد کے جنہوں نے کلمہ سنانے کی فرمائش پر ریٹرننگ افسر کو جواب دیا کہ قانون کے مطابق وہ ان کی ذات کے بارے میں نہیں پوچھ سکتے۔
اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر جاری بحث یہ نکتہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جانچ پڑتال کا عمل شروع ہوتے ہی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے اس بیان سے ریٹرننگ افسروں کو شہ ملی کہ حکمرانی کے لیے ایسے نمائندے منتخب ہوں جن پر نا اہلی کا لیبل نہ لگا ہو۔
لاہور ہائی کورٹ نے تو اپنے فیصلے میں اس بارے میں وضاحت کی ہے کہ چیف جسٹس کے بیان کی روح کے الٹ عمل ہوا ہے لیکن اس بارے میں تاحال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دفتر سے کوئی وضاحت نہیں آئی ہے۔
ریٹرننگ افسروں کے ایسے سوالات کے بارے میں سوشل میڈیا پر چھڑنے والی بحث میں سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک سے منسوب یہ بیان بظاہر اس جانچ پڑتال کے عمل کی صحیح عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں وہی لوگ صادق اور امین ہیں جن کا نام صادق یا امین ہے۔







