جعلی ڈگری: سابق وفاقی وزیر کو قید کی سزا

سابق وفاقی وزیر حلقہ267 سے پاکستان مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے
،تصویر کا کیپشنسابق وفاقی وزیر حلقہ267 سے پاکستان مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے

پاکستان میں مختلف ضلعی عدالتوں نے جعلی تعلیمی اسناد سے متعلق زیرِ سماعت مقدمات میں ایک سابق وفاقی وزیر اور صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے ایک سابق رکن کو سزا سنائی ہے۔

جعلی تعلیمی اسناد سے متعلق عدالت میں پیش نہ ہونے پر دو سابق ارکان اسمبلی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے ایڈیشنل سیشن جج نے صوبائی اسمبلی کے سابق رکن خلیفہ عبدالقیوم کو جعلی ڈگری کے مقدمے میں تین سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی اور اُنہیں کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا ہے۔

خلیفہ عبدالقیوم ڈیرہ اسماعیل خان کے سٹی ون پی کے 64 کے انتخابی حلقے سے صوبائی اسمبلی کے لیے 2008 میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے منتخب ہوئے تھے۔

بلوچستان سے سبی کی ایک مقامی عدالت نے سابق وفاقی وزیر ہمایوں عزیز کُرد کو جعلی ڈگری رکھنے کا الزام ثابت ہونے پر ایک سال قید اور پانچ ہزار جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

وہ گذشتہ عام انتخابات کے دوران جھل مگسی کے علاقے سے قومی اسمبلی کے حلقہ267 سے پاکستان مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔

بلوچستان سے ہی تعلق رکھنے والے سابق رکن اسمبلی ناصر علی شاہ جب کہ پنجاب اسمبلی کے سابق رکن اقبال لنگڑیال کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقے ڈیرہ غازی خان کی ضلعی عدالت نے سابق رکن صوبائی اسمبلی میر بادشاہ قیصرانی پر جعلی ڈگری رکھنے کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔

میر بادشاہ قیصرانی نے سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن بعد میں اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد اُنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیارکر لی تھی۔

اس سے پہلے مظفر گڑھ کی ایک عدالت نے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی پر جبکہ بہاولپور کی عدالت نے عامر یار ورن پر فرد جرم عائد کی دی ہے۔

الیکشن کمیشن نے بلوچستان سے این اے 161 سے جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے آغا محمد کی ڈگری جعلی قرار دے کر ان کا معاملہ پشین کے سیشن جج کو بھجوا دیا ہے۔ سابق رکنِ قومی اسمبلی نے اپنی تعلیمی اسناد کے بارے میں الیکشن کمیشن میں نظرثانی کی اپیل دائر رکھی تھی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے مقامی عدالتوں کو جعلی ڈگریوں سے متعلق مقدمات کو چار اپریل تک نمٹانے کا حکم دے رکھا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ابھی تک 189 ارکان نے ابھی تک اپنی ڈگریوں کی تصدیق نہیں کروائی اور سپریم کورٹ نے ان سابق ارکان کو پانچ اپریل تک اپنی تعلیمی اسناد کی تصدیق کروانے کی مہلت دی ہے۔