جعلی ڈگری پر سابق رکن اسمبلی کو سزا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر صوابی میں عدالت نے سابق رکن صوبائی اسمبلی سردار علی کو جعلی ڈگری کے ایک مقدمے میں تین سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج چھوٹا لاہور ضلع صوابی نے سنیچر کو فیصلہ سناتے ہوئے سابق رکن صوبائی اسمبلی کو مختلف دفعات کے تحت تین سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
قانونی ماہرین کے مطابق سردار علی اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔
سرکاری وکیل محمد طارق ایڈووکیٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے احکامات جاری کیے تھے کہ جعلی ڈگریوں کے حوالے سے زیر التوا مقدمات کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس مقدمے کی شنوائی دو سال سے جاری تھی۔
یہ مقدمات یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور الیکشن کمیشن کی مشترکہ چھان بین کے بعد درج کیے گئے تھے۔
متعلقہ اراکین اسمبلی اپنے دفاع میں ڈگریوں کے حوالے سے ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے جس کے بعد علاقائی الیکشن کمیشن نے پولیس تھانوں میں رپورٹ درج کرائی جس کے تحت سردار علی کو سزا سنائی گئی۔
سردار علی سو ہزار آٹھ کے انتخاب میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے۔
نظریاتی طور پر ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے رہا ہے اور پھر اس کے بعد وہ پیپلز پارٹی شیرپاؤ گروپ سے وابستہ رہے لیکن دو ہزار آٹھ کے انتخاب میں انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا جس پر انہوں نے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیبر پختونخوا میں اس طرح کے دیگر مقدمات کی تعداد کچھ زیادہ نہیں ہے لیکن کچھ ایسے مقدمات زیر التوا ہیں جن میں مخالفین نے جیتنے والے امیدواروں کے خلاف مقدمات درج کرائے تھے اور ان میں سے بعض کی شنوائی ان دنوں ہو رہی ہے۔







