مردان میں پولیس پر خودکش حملہ

خیبر پختونخواہ کے شہر مردان کے قریب کاٹلنگ کے مقام پر شدت پسندوں کی ایک کارروائی میں ایک انسپکٹر اور دو خود کش حملہ آور ہلاک ہو گئے جب کہ تین عام شہری شدید زخمی ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ کاٹلنگ بازار میں سنیچر کو صبح کے وقت پیش آیا ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس جعفر خان کے مطابق بازار میں پولیس اہلکار معمول کی چیکنگ کر رہے تھے کہ انھوں نے ایک موٹر سائکل پر سوار دو افراد کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن انھوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی جس سے ایڈیشنل سب انسپکٹر خوشدل خان ہلاک ہو گئے اور تین شہری زخمی ہو گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پولیس نے حملہ آوروں پر جوابی کارروائی کی ہے جس سے ایک خود کش جیکٹ پہنے ہوئے شخص زخمی ہو کر موٹر سائیکل سے گر گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا، جبکہ دوسرا حملہ آور قریب مویشیوں کے باڑے میں چھپ گیا تھا۔
جعفر خان کے مطابق پولیس نے دوسرے حملہ آور کو بھی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خود کش دھماکے سے بعض شہریوں کو معمولی زخم آئے ہیں۔ مردان ہسپتال میں تین زخمیوں کو لایا گیا ہے۔
مردان میں تین روز پہلے نامعلوم افراد نے ناکے پر تعینات دو پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا جب کہ صوبے کے دیگر علاقوں میں جاری تشدد کے واقعات کے بعد مردان شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
جعفر خان کے مطابق انھوں نے دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد شہر میں ہائی الرٹ کے طور پر پولیس کو چوکس کر دیا تھا اور آج کے واقعے میں انھیں کامیابی ہوئی ہے کیونکہ حملہ آوروں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے نشاندہی کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ البتہ افسوس کی بات ہے کہ اس میں ان کا ایک ساتھی جان گنوا بیٹھا ہے۔
گذشتہ روز پشاور صدر کے علاقے میں فرنٹیئر کانسٹبلری کے قافلے پر فوجیوں کی ایک چوکی کے قریب خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ آئی جی ایف سی عبدالمجید مروت اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔
پشاور اور صوبے کے دیگر چند علاقوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گذشتہ تین ہفتوں میں تشدد کے دو درجن سے زیادہ واقعات پیش آچکے ہیں جن میں لگ بھگ 50 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







