کراچی:سکول پر دستی بم حملہ، پرنسپل ہلاک

کراچی میں طالبان کے خلاف مظاہرہ
،تصویر کا کیپشنکراچی میں طالبان کے خلاف مظاہرہ

کراچی میں بلدیہ کے علاقے میں ایک سکول پر دستی بم کے حملے میں پرنسپل ہلاک اور چھ بچے زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ سکول کراچی کے اتحاد ٹاؤن کے علاقے میں واقع ہے۔ اس علاقے میں زیادہ تر آبادی کم آمدنی والے پشتون خاندانوں پر مشتمل ہے۔

پولیس افسر ناصر محمود نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور نے اس وقت حملہ کیا جب درجنوں بچے سالانہ امتحان کے نتائج جاننے کے لیے سکول کے باہر میدان میں جمع تھے۔

ٹیلی ویژن پر زخمی بچوں اور ان کے سراسیمہ رشتے داروں کو دکھایا گیا ہے۔ بچوں کی عمریں آٹھ اور دس سال کے درمیان تھیں۔

ایک اور پولیس اہل کار آصف اعجاز شیخ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے پرنسپل کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے تھا۔

انھوں نے کہا کہ پولیس حملہ آور کی شناخت معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس نے پہلے دو گرینیڈ پھینکے اور پھر سکول کے پرنسپل اور ان کے گرد کھڑے بچوں پر فائر کھول دیا۔

کراچی پولیس کے ترجمان عمران شوکت نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر بیٹھ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اب تک اس حملے کی ذمے داری کسی نے نہیں قبول کی۔

کراچی میں حالیہ برسوں میں متعدد بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایسے واقعات میں اکثر مذہبی، سیاسی اور نسلی و لسانی تعصب کارفرما ہوتا ہے۔

چند روز قبل عوامی نیشنل پارٹی کے سندھ کے صدر شاہی سید نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ طالبان کی طرف سے لاحق خطرے کی وجہ سے وہ کراچی میں انتخابات کے لیے عوامی اجتماعات کی بجائے گھر گھر جا کر اپنی انتخابی مہم چلائیں گے، کیوں کہ انھیں اجتماعات میں بم حملوں کا خدشہ ہے۔

پاکستان میں گیارہ مئی کو عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔