’بلوچستان کے خراب حالات کی ذمہ دار بی ایل اے‘

پاکستان بیرونی حملے کا شکار ہے اور بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی ہے: رحٰمن ملک
،تصویر کا کیپشنپاکستان بیرونی حملے کا شکار ہے اور بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی ہے: رحٰمن ملک

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے سینیٹ میں کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بلوچ لبریشن آرمی ’بی ایل اے‘ کا ہاتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ لشکر جھنگوی اور بی ایل اے ایک دوسرے کے تعاون سے بلوچستان کے حالات خراب کر رہے ہیں۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو سینیٹ میں دو روز سے بلوچستان کے بارے میں جاری بحث سمیٹتے ہوئے کہی۔

ان کے مطابق وہ بلوچستان میں طالبان کی موجودگی کے امکان کو رد نہیں کر سکتے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’بی ایل اے‘ نے تقریباً تین سو دھماکے کیے اور پانچ سو لوگوں کو اغوا کیا۔

ان کے مطابق سنہ دو ہزار گیارہ میں ایک سو اڑتیس فرنٹیئر کور اور نواسی پولیس اہلکاروں کو ’بی ایل اے‘ نے قتل کیا جبکہ پونے نو سو سویلین افراد قتل ہوئے جس میں اکثریت کی ذمہ دار بھی یہی تنظیم ہے۔

انہوں نے کہا ’پاکستان بیرونی حملے کا شکار ہے اور بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ بہت ساری باتیں کھلے عام نہیں کر سکتے اور اگر پارلیمان کا بند کمرے میں اجلاس بلایا جائے تو وہ آئی ایس آئی کے سربراہ سمیت بریفنگ کے لیے تیار ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق وزیر داخلہ گزشتہ ڈیڑھ دو برسوں سے کئی بار پارلیمان کو بند کمرے میں بریفنگ کی پیشکش کر چکے ہیں لیکن تاحال اس کا انتظام نہیں ہو سکا۔

رحمٰن ملک نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے اپنی اور آئی ایس آئی کے سربراہ کی ملاقات کا حوالہ دیا اور بتایا کہ جب انہوں نے بلوچستان میں مداخلت اور مالا کنڈ میں افغانستان سے حملوں کا معاملہ اٹھایا تو حامد کرزئی نے کہا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک سے ان کی ملاقات کرائے تو وہ افغانستان کی پاکستان میں مداخلت روکنے کے لیے امریکہ سے سفارش کر سکتے ہیں۔

رحمٰن ملک کے بقول انہوں نے کہا کہ جناب صدر آپ تو لین دین کر رہے ہیں اور اپنی زبان سے اقرار کر چکے ہیں کہ افغانستان سے مداخلت ہو رہی ہے۔ جس پر صدر کرزئی نے کہا کہ اب معاملات ان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ امریکہ کے ہاتھ میں ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پاکستان کے چاروں صوبوں میں ہوتی ہے لیکن دنیا بھر میں شور صرف بلوچستان کے حوالے سے مچایا جاتا ہے، امریکی کانگریس میں قرارداد لائی جاتی ہے، سیمینار اور مظاہرے ہوتے ہیں، یہ سب کچھ سوچی سمجھی سازش کے تحت ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں احساس محرومیاں ہیں لیکن اس کا ازالہ بندق سے نہیں بلکہ بات چیت سے کیا جاسکتا ہے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ ان کا برہمداغ بگٹی سے رابطہ تھا اور تاجکستان میں ان کی ملاقات بھی طے ہوئی لیکن بھارت کی مخالفت کے بعد انہوں نے ملاقات نہیں کی۔

رحمٰن ملک نے کہا کہ فرنٹیئر کور کو بلا وجہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے بقول بلوچستان میں پولیس اور لیویز کی نفری کم ہے اس لیے ایف سی کو لگایا گیا ہے۔

رحمٰن ملک کی تقریر جاری تھی کہ مزید کارروائی جمعہ کی صبح تک ملتوی کردی گئی۔