کوئٹہ:زائرین پر حملے کے خلاف مکمل ہڑتال

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں زائرین کی بس پر ہونے والے بم حملے کے خلاف مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے جبکہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیرہ تک پہنچ گئی ہے۔
ایران سے آنے والی زائرین کی بس کو ہزار گنجی میں جمعرات کی شام اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ پولیس کی نگرانی میں کوئٹہ پہنچنے والی تھی۔
ابتدائی طو پر اس واقعے میں چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات آئی تھیں تاہم مقامی حکام کے مطابق جمعرات کو رات گئے تک اس بس کے گیارہ مسافر اور حفاظتی گاڑی میں سوار دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی تھی۔
اس دھماکے میں بائیس افراد زخمی بھی ہوئے تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹروں نے زخمیوں میں سے پانچ کی حالت نازک بتائی ہے جنہیں علاج کے لیے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق بس میں ساٹھ کے قریب مسافر سوار تھے جن میں سے اکثر کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔
شیعہ تنظیموں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا تھا اور جمعہ کو کوئٹہ میں ہڑتال کی کال بھی دی گئی تھی۔
کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی ، عزاداری کونسل پاکستان اور شیعہ کانفرنس کی اپیل پر ہونے والی ہڑتال کے موقع پر تمام دکانیں اور کاروباری مراکزبند رہے جس سے کاروبارِ زندگی سخت متاثر ہوا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
شیعہ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے تحفظ کو یقینی بنائے اور اس قسم کے واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واقعہ کے خلاف ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی نے گورنر ہاؤس تک ایک احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا تھا تاہم انتظامیہ کی جانب ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کے بعد یہ ریلی ملتوی کر دی گئی۔
دوسری جانب خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے گیارہ افراد کو مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن قبرستان میں نماز جمعہ کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا۔
جمعرات کی رات خود کو کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کا نمائندہ بتانے والے ابوبکر نامی شخص نے مقامی اخبارات کے دفاتر میں فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔
بلوچستان میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصاً صوبے میں مقیم ہزارہ برادری خاصے عرصے سے فرقہ وارانہ دہشتگردی کا نشانہ بن رہی ہے اور ہزارہ برادری کے رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار ایک سے لیکر اب تک ان واقعات میں آٹھ سوسے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔







