کراچی: ایک ماہ میں دو سو افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

پاکستان کے شہر کراچی میں جمعرات کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری رہا جہاں رواں ماہ دو سو کے قریب افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔

صوبۂ سندھ کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان شرف الدین میمن کا کہنا ہے کہ ہدف بنا کر قتل کیے جانے والے واقعات کے پیچھے نان سٹیٹ ایکٹرز ملوث ہیں جو کراچی کے امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور حکمراں اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

جمعرات کو شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں رینجرز کے ایک اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس نے اِن ہلاکتوں کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔

پوليس کے مطابق کورنگی کے علاقے مدينہ کالونی ميں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے رينجرز کے اہلکار عبدالحميد چاچٹر کو قتل کرديا جو سب انسپکٹر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مزید چار افراد کو ماڑي پور، لی مارکيٹ، اور کورنگی کے علاقوں میں ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔

پولیس کی جانب سے مرتب کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق، یکم مئی سے ستائیس مئی تک ہدف بنا کر قتل کیے جانے والے افراد کی تعداد ایک سو تریسٹھ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایم کیو ایم کے پندرہ ارکان، حکمراں پپلز پارٹی کے چار، عوامی نیشنل پارٹی کے دو اور پولیس کے پانچ اہلکار شامل ہیں۔

کراچی سے نامہ نگار ارمان صابر کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران لگ بھگ تیس کے قریب افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا اور اگر یہ پولیس کے اعداد و شمار کے ساتھ ملا لی جائیں تو ٹارگٹ کلنگ کی تعداد ایک سو ترانوے بنتی ہے۔

شرف الدین میمن کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے علاوہ ڈاکٹرز بھی ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب فرقہ وارانہ ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں سب سے زیادہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے تھے اور پولیس اور رینجرز نے کئی ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد ان واقعات میں کمی آئی تھی۔

ان کے بقول اب دوبارہ ان واقعات میں شدت دیکھی جاری ہے اور ان پر قابو پانے کے لیے پولیس اور رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشنز بھی جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی مشتبہ افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں تاہم ان میں کوئی ایک گروہ ان واقعات میں ملوث نہیں اور اس میں طالبان کے عنصر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کراچی میں ہونے والی بینک ڈکیتیوں اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ان کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

شرف الدین کے بقول مشتبہ افراد گرفتار تو کرلیے جاتے ہیں لیکن گواہوں کی عدم موجودگی کی بناء پر استغاثہ کمزور پڑ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وِٹنس پروٹیکشن(گواہان کی حفاظت) کے قانون کا عبوری مسودہ تیار ہے جسے صوبائی کابینہ نے منظوری دے دی ہے اور وہ جلد ہی بل کی صورت میں صوبائی اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کے منظور ہونے کے بعد امید کی جاتی ہے کہ ملزمان کو عدالت سے سزا ملنے کی شرح میں اضافہ ہو سکے گا۔