آفاق احمد کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

آفاق احمد کے خلاف یہ مقدمہ سنہ دو ہزار نو میں درج کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنآفاق احمد کے خلاف یہ مقدمہ سنہ دو ہزار نو میں درج کیا گیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن عتیق الرحمان کے قتل کے الزام میں گرفتار ایم کیو ایم حقیقی کے چیئرمین آفاق احمد کی ضمانت منظور کرلی ہے اور ان کی رہائی کا حکم جاری کیا ہے۔

انیس سو اکانوے میں ایم کیو ایم دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی تھی، ایک طرف الطاف حسین اور دوسری جانب آفاق احمد اور عامر خان تھے۔ عامر خان نے دو ماہ قبل معافی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کرلی تھی جبکہ مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کی سربراہی آفاق احمد کر رہے ہیں۔

ہائی کورٹ کے جسٹس محمد تسنیم نے احمد آفاق احمد کی دس لاکھ رپے کی ضمانت منظور کی ہے۔

کراچی کے عید گاہ تھانے پر سنہ دو ہزار نو کو آفاق احمد کے خلاف ایم کیو ایم کے رکن عتیق الرحمان کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، اس وقت آفاق احمد جیل میں تھے۔

مدعی نے الزام عائد کیا تھا کہ آفاق احمد کی ایماء پر عتیق کو قتل کیا گیا ہے، اس مقدمہ میں کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔

ماتحت عدالت نے اس مقدمہ میں ثبوتوں کی عدم دستیابی پر مقدمہ کو التوا میں رکھا اور ساتھ میں آفاق احمد کو حاضری سے مستثنیٰ قرار دیا، بعد میں فریادی کی درخواست پر عدالت نے دوبارہ سماعت بحال کردی تھی۔

آفاق احمد نے اس مقدمہ میں بریت کی درخواست کی تھی مگر اس میں تاخیر پر ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی جو منظور ہوگئی۔

آفاق احمد کے وکیل محمد فاروق نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے مؤکل کا قتل کے اس مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں، واقعہ کے وقت وہ جیل میں تھے جبکہ پولیس بھی اس مقدمہ میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکی ہے۔

آفاق احمد کو سنہ دو ہزار چار میں کراچی کے علاقے ڈفینس سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر قتل اور ہنگامہ آرائی کے مقدمات دائر کیے گئے تھے۔