مہران بیس حملہ، تین نیوی افسروں کا کورٹ مارشل شروع

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے تصدیق کی ہے کہ مہران بیس پر مامور تین افسران کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کر دی ہے۔
آئی ایس پی آر نےتصدیق کی ہے کہ نیوی کے مہران بیس پر حملے کی تحقیقات کرنے والے انکوائری بورڈ نے اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہیں اور ان کی سفارشات پر عمل کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق تحقیقاتی بورڈنے بائیس مئی کو مہران بیس کے کمانڈر راجہ طاہر سمیت تین افسران کا کورٹ مارشل کرنے کی سفارش کی ہے جن میں ایک نیوی کے کپتان اور ایک کمانڈر شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل اطہرعباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم اس وقت اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کے تحقیقاتی بورڈ کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں اور اب ان پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی بحریہ کی جانب سے یہ اندرونی تحقیقات ریئر ایڈمرل تحسین اللہ خان کی سربراہی میں کی جا رہی تھیں۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر نمایاں طور پر شائع کی گئی ہے جس کی فوج نے تصدیق کی ہے۔
خبرکے مطابق یہ کپتان پی تھری سی اورائن جہازوں کے اسکوارڈن لیڈر تھے جن میں سے دو طیارے بائیس مئی کے حملوں میں تباہ ہوگئے تھے۔ پی تھری سی اورائن طیارے آبدوز شکن، فضائی نگرانی اور زمینی حملوں کے لیے انتہائی کارگر جنگی جہاز تصور کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ بائیس مئی کو کراچی میں مہران بیس دہشتگردوں کے ایک حملےمیں دو پی تھری سی اورائن طیاروں تباہ ہوگئے تھے جب کہ نیوی کے دس اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے تیس مئی کو لاہور سے خفیہ ایجنسیوں نے مبینہ طور پر کراچی میں نیوی کی بیس پر حملے میں ملوث ہونے کے شبہ میں نیوی کے سابق کمانڈو کامران احمد کو ان کے ایک بھائی سمیت گرفتار کیا ہے۔ کامران احمد کو دس سال پہلے بحریہ سے جبری طور پر برطرف کیا گیا تھا۔
ان حملوں کے بعد پاکستانی بحریہ کی صلاحیت پربھی متعدد سوالات اٹھائے گئے تھے ۔
اس سے پہلے اکتوبر دو ہزار نو میں پاکستانی فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر پر بھی راولپنڈی میں حملہ ہوا تھا جس میں حملہ آوروں نے کئی فوجی اہلکاروں کا یرغمال بنا لیا تھا اور اس واقعے میں نو حملہ آوروں سمیت تئیس افراد مارے گئے تھے جن میں گیارہ فوجی اہلکار اور تین یرغمالی بھی تھے۔







