گردوں کی پیوندکاری، ملزمان کا ریمانڈ

لاہور کی ایک عدالت نے گردوں کی غیر قانونی فروخت اور پیوندکاری کے الزام میں سات ملزموں کو تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔
مقامی عدالت نے ملزموں کا تین روز کا ریمانڈ دیتے ہوئے انہیں دوبارہ پانچ جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔
لاہور پولیس نے جمعہ کو ایک گھر میں قائم گردے تبدیل کرنے والے نجی آپریشن تھیٹر پر چھاپہ مارا اور وہاں سے دو ڈاکٹروں سمیت سات افراد کو حراست میں لیاتھا۔
سنیچر کے روز پولیس نے ملزموں عدالت میں پیش میں کیا گیا اور یہ استدعا کی ملزموں سے تفتیش کے لیے ان کا سات روز کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
عدالت کے سامنے گرفتار ہونے والے ملزم ڈاکٹر نے اپنے پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور وہ علاقے میں صرف ایک ڈسپنسری چلاتے ہیں۔ عدالت نے پولیس کی استدعا جزوی طور منظور کی اور صرف تین روز کا جسمانی ریمانڈ دیا۔
پولیس کے مطابق جب خفیہ آپریشن تھیٹر پر چھاپہ مارا گیا تو اس وقت وہاں پر ایک غیر ملکی عبداللہ بھی موجود تھا اور اس غیر ملکی کو گردہ کی منتقلی ہونی تھی جبکہ ایک ایک شخص کا بے ہوش پڑا تھا جس کا گردہ نکالا جانا تھا۔
پولیس کے مطابق گھر میں قائم خفیہ آپریشن تھیٹر میں دھوکہ دہی میں مزدوری کرنے والے افراد کے گردے نکال کر غیر ملکیوں کو فروخت کیے جاتے ہیں۔
پاکستان کے قانون کے تحت گردوں کی فروخت پر پابندی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو پانچ برس قید تک کی سزا دی ہوسکتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان میں اعضاء کی تجارت پر پابندی کا قانون دو ہزار سات میں متعارت کروایا گیا اور اس قانون سے پہلے پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہونے لگا تھا جہاں گردوں کی باآسانی خرید وفروخت ہوتی تھی۔







